Al-Risala · November 2012 · page

Then we saved him and those who were with

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲

اس معاملے پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح کی کشتی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کو جو رول مطلوب ہے، اس رول کے لئے زیادہ موزوں مقام اپنی بعض خصوصیات کی بنا پر، ترکی (Turkey) تھا۔ اللہ تعالیٰ کو یہ معلوم تھا کہ بعد کے زمانے میں ترکی مسلم ملک بنے گا۔ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ ترکی ایک ایسا ملک ہے جو مشرقی دنیا اور مغربی دنیا کے درمیان جنکشن (junction) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ مختلف اسباب سے ترکی میں ساری دنیا کے سیاح کثرت سے آئیں گے۔ اسی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو یہ بھی معلوم تھا کہ مسلم ملکوں کی لمبی فہرست میں ترکی وہ واحد ملک ہوگا جو مذہبی کٹر پن (religious fanaticism) سے خالی ہوگا اور اس بنا پر وہ سب سے زیادہ موزوں ملک ہوگا جہاں سے کشتی نوح کا مطلوب رول ادا کیا جا سکے۔

یہ مطلوب رول کیا ہے۔ وہ بلاشبہ دعوت ہے، یعنی اللہ کے تخلیقی منصوبہ سے تمام مرد اور عورت باخبر ہو جائیں۔ اس مقصد کے لئے کشتی نوح ایک تاریخی شہادت (historical evidence) کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ اُس خدائی منصوبہ کی ایک تاریخی یادگار ہے جس کا ظہور حضرت نوح کے ذریعہ ہوا۔ کشتی نوح براہ راست طور پر حضرت نوح کی تاریخ کی مادی شہادت ہے اور بالواسطہ طور پر تمام نبیوں کی تاریخ کی مادی شہادت۔

اللہ تعالیٰ کو مطلوب تھا کہ قیامت سے پہلے تمام انسانوں کے سامنے اس بات کا محسوس اعلان ہو جائے کہ انسان کے بارے میں اللہ کا منصوبہ تخلیق کیا تھا۔ کشتی نوح اس خدائی منصوبہ تخلیق (creation plan of God) کی ایک ناقابل انکار شہادت ہے۔ اور مختلف اسباب سے اس شہادت کی ادائیگی کے لئے سب سے زیادہ موزوں مقام ترکی تھا۔

ضرورت ہے کہ تمام دنیا کے مسلمان عموماً اور ترکی کے مسلمان خصوصاً اس خدائی منصوبے کو سمجھیں اور اس منصوبے کی تکمیل کے لئے وہ سارا اہتمام کریں جو اس کے لئے ضروری ہو۔ مثال کے طور پر وہ کشتی نوح کے مقام کو ایک اعلیٰ درجہ کے ٹورسٹ اسپاٹ (Tourist Spot) کے طور پر ڈولپ (develop) کریں۔ وہاں آمد و رفت کی تمام سہولتیں مہیا کریں۔ پھر وہاں اعلیٰ معیار پر یہ

‹ Previous page Next page › Contents of November 2012 All issues

Printed page