Al-Risala · December 2012 · page

بائبل کی ایک پیشین گوئی

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۲

ان سیاسی پہاڑوں کو توڑ دیا اور اس طرح دنیا میں آزادی اور ترقی کا دور آیا، وہ دراصل اُسی انقلابی عمل کا نقطہ انتہا (culmination) تھا جو ساتویں صدی عیسوی اور آٹھویں صدی عیسوی میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے تحت برپا ہوا تھا— یہی وہ انقلابی واقعہ ہے جس کو بائبل میں حبقوق نبی نے تمثیل کی زبان میں بیان کیا تھا۔

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ انقلابی رول اتنا زیادہ واضح ہے کہ سیکولر مورخین نے بھی کھلے لفظوں میں اس کا اعتراف کیا ہے۔ اس کی ایک مثال امریکی مورخ چارلس (Charles Issawi) ہیں، جن کی وفات 2000 میں ہوئی۔

مولانا عبد الماجد دریا بادی (وفات: 1977) نے اپنی انگریزی تفسیر قرآن میں سورہ الانشراح کی تفسیر کے تحت اس سلسلے میں چارلس اساوی کا ایک قول اس طرح نقل کیا ہے کہ— یہ کہنا کوئی مبالغہ کی بات نہیں کہ اگر کسی ایک شخص نے تاریخ کے کورس کو بدلا ہے، تو وہ انسان محمد تھے: It does not seem too much to say that if any one man changed the course of history that man was Muhammad. (The Muslim World, Hartford, April 1950, p. 95)

یہ ایک حقیقت ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کا طویل زمانہ بادشاہت (kingship) کا زمانہ تھا۔ اس بادشاہت کے تحت ساری دنیا میں جبری نظام قائم تھا۔ انسان کو آزادانہ سوچ اور آزادانہ تحقیق کا اختیار حاصل نہ تھا۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ ہزاروں سال سے علمی ترقی کا دروازہ انسان کے اوپر بند پڑا ہوا تھا۔ ہر قسم کی ترقی آزادانہ سوچ کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، اور قدیم بادشاہی نظام میں یہ آزادانہ سوچ سرے سے موجود نہ تھی۔

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کی قربانیوں کے نتیجے میں قدیم بادشاہت کے تحت قائم شدہ جبری نظام ختم ہوا۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ دنیا میں آزادی آئے اور انسانی قافلہ ترقیات کے دور میں پہنچے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2012 All issues

Printed page