قلب اور عقل
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۲
قلب اور عقل
انسان ایک سوچنے والا حیوان (thinking animal) ہے۔ انسان کی تمام سرگرمیاں سوچ سے کنٹرول ہوتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ انسان جیسا سوچتا ہے، ویسا ہی وہ بن جاتا ہے۔ سوچنے کی اس فیکلٹی (faculty) کو ذہن (mind) کہا جاتا ہے۔ ذہن کے لئے قرآن میں حسب ذیل الفاظ آئے ہیں- عقل، لب، فواد، حجر، نہی اور قلب۔
قلب کو عام طور پر دل کے ہم معنی سمجھا جاتا ہے، مگر اسی کے ساتھ قلب کا لفظ عقل کے معنی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ عربی زبان کے مشہور لغت لسان العرب میں قلب کی تشریح کے تحت یہ الفاظ آئے ہیں: و قد يعبر بالقلب عن العقل ـ قال الفراء في قوله تعالى: إن في ذلك لذكرى لمن كان له قلب، أي: عقل - قال الفراء: وجائز في العربية أن تقول: مالك قلب، وما قلبك معك - تقول: ما عقلك معك، وأين ذهب قلبك - أي: أين ذهب عقلك - (لسان العرب، 1/687)
یعنی قلب کو عقل کے معنی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ فراتوی نے کہا ہے کہ قرآن کی آیت: إن في ذلك لذكرى لمن كان له قلب (50:37) میں قلب سے مراد عقل ہے۔ عربی زبان میں یہ طریقہ درست ہے کہ عقل کے موقع پر قلب کا لفظ بولا جائے - مثلاً کہا جاتا ہے کہ تمھارا قلب کہاں چلا گیا، یعنی تمھاری عقل کہاں چلی گئی۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کے اندر سب سے بڑی چیز ذہن (mind) ہے، قلب کا لفظ اور عقل کا لفظ دونوں اس معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ عقل کے لفظ کو لفظی طور پر ذہن کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے، اور قلب کا لفظ ادبی استعمال کے لحاظ سے ذہن کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں یہ ثابت ہوگیا ہے کہ قلب صرف حرکتِ خون کا مرکز ہے اور سوچنے کا مرکز صرف دماغ ہے، لیکن ادبی استعمال کی بنا پر اب بھی، ہول مائنڈڈلی (wholemindedly) نہیں بولا
‹ Previous page Next page › Contents of December 2012 All issues