قلب اور عقل
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۲
جاتا، بلکہ ہول ہارٹڈلی (wholeheartedly) بولا جاتا ہے۔ یہی طریقہ ہر زبان میں رائج ہے۔ قرآن کا موضوع علم تشریح الاعضا (anatomy) نہیں ہے، بلکہ قرآن کا موضوع انسان کی ہدایت ہے۔ ہدایت کا تعلق کامل طور پر تعقل اور تفقه سے ہے۔ ایسی حالت میں قرآن میں جہاں بھی قلب کا لفظ آئے گا، تو قرآن کے موضوع کی بنا پر اُس کو عقل کے معنی میں لیا جائے گا۔ قلب کا لفظ جب دو معنی میں آتا ہے— ایک، معروف طور پر دل کے معنی میں اور دوسرے، عقل کے معنی میں، تو ایسی حالت میں قرآن میں قلب کا مفہوم قرآن کے موضوع کی نسبت سے متعین ہوگا ۔ قلب بمعنی دل ، قرآن میں قابل انطباق (applicable) نہیں ہوگا، بلکہ قرآن میں قلب بمعنی عقل ہی قابل انطباق قرار پائے گا۔
یہ اصول، بلاغت کا ایک مسلّم اصول ہے، اور یہ قرآن اور غیر قرآن دونوں کے لیے قابل انطباق ہے۔ مثلاً ایک کتاب جو علم تشریح الاعضا (anatomy) پر لکھی گئی ہو، اُس میں اگر کہیں قلب (heart) کا لفظ آتا ہے تو وہاں قلب کے لفظ کو عقل (mind) کے معنی میں نہیں لیا جائے گا، بلکہ دل کے معنی میں لیا جائے گا۔ اس کے برعکس، جب قرآن میں قلب کا لفظ استعمال کیا جائے تو اس کو عقل (mind) کے معنی میں لیا جائے گا۔ علم تشریح الاعضا کے موضوع پر لکھی جانے والی کتاب میں قلب کا مفہوم اس کے موضوع کی نسبت سے متعین ہوتا ہے۔ اسی طرح قرآن میں اگر قلب کا لفظ کسی آیت میں آئے تو یہاں قلب کا مفہوم قرآن کے موضوع کی نسبت سے متعین ہوگا، یعنی اس کو عقل کے معنی میں لیا جائے گا۔ یہ بلاغت کا ایک معروف اصول ہے۔
ہر زبان میں ایسا ہے کہ اکثر کسی لفظ کے کئی معنی ہوتے ہیں۔ یہ معنی سیاق (context) سے متعین ہوتا ہے۔ مثلاً عربی زبان کا ایک لفظ دین ہے، جس کے کئی معنی ہوتے ہیں۔ مثلاً مالك يوم الدين (1:3) میں یہ لفظ روز جزا کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور أقيموا الدين (42:13) میں یہ لفظ مذہب (religion) کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے، وغیرہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2012 All issues