غیر ضروری شبہات
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۲
غیر ضروری شبہات
مسٹر ساجد انور انجینئر (رڑ کی، اتراکھنڈ) اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں۔ انھوں نے ایک مجلس میں یہ بات کہی کہ مسلمانوں کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ قرآن کے ترجمے کو غیر مسلموں تک پہنچائیں، تاکہ وہ قرآن کے پیغام سے واقف ہوسکیں۔ اس مجلس میں ایک تعلیم یافتہ مسلمان موجود تھے۔ انھوں نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ــ اگر ایک شخص کسی غیر مسلم کو قرآن کا ترجمہ دیتا ہے اور وہ اس کو پھاڑ کر کوڑے دان میں ڈال دیتا ہے تو کون اس کے لیے گناہ گار ہوگا:
If one gives a copy of the Quran to a non-Muslim, and he tears it apart and puts it into a dustbin, then who would be a sinner? اُس وقت مجلس میں ایک اور تعلیم یافتہ مسلمان ڈاکٹر عندلیب طارق موجود تھے۔ انھوں نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے میں کچھ غیر مسلم حکمرانوں کے نام دعوتی مکتوب روانہ کیے تھے۔ اُن میں سے ایک مکتوب وہ تھا جو ایران کے غیر مسلم بادشاہ کسریٰ کے نام بذریعہ عبد اللہ بن حذافہ صحابی بھیجا گیا تھا۔ اس مکتوب میں قرآن کی آیتیں لکھی ہوئی تھیں۔ کسریٰ ایک مغرور بادشاہ تھا۔ وہ مکتوب کو دیکھ کر غصہ ہو گیا۔ اس نے مکتوب نبوی کو پھاڑ کر پھینک دیا۔ اس کے لیے کون گنہگار ہوگا۔ کیا نعوذ باللہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم : Did the act of the king in any way make the Prophet a sinner? اِس جواب پر مذکورہ مسلمان خاموش ہو گئے، مگر یہ خاموشی کی بات نہیں۔ اِس جواب کے بعد مذکورہ مسلمان کو چاہئے تھا کہ وہ کہتے کہ آج میں نے اپنی ایک غلطی دریافت کی۔ واقعہ یہ ہے کہ اس قسم کے شبہات مکمل طور پر بے حقیقت ہیں۔ ہم کو چاہئے کہ اس معاملے میں ہم صرف اپنے دعوتی فرض کے بارے میں سوچیں اور قرآن کے تراجم کو تمام انسانوں تک پہنچا دیں۔ ہمارا کام پہنچا دینا ہے۔ کسی بھی عذر کی بنا پر ہم ایسا نہیں کر سکتے کہ ہم اللہ کے کلام کو اللہ کے بندوں تک پہنچانے کا کام نہ کریں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2012 All issues