بے بنیاد اندیشہ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۲
بے بنیاد اندیشہ
ایک اردو میگزین میں ایک ہندوستانی عالم کا مضمون نظر سے گزرا۔ یہ مضمون موجودہ مسلمانوں کے بارے میں تھا۔ اس مضمون کی سرخی یہ تھی: ’’عالمی سطح پر ملت اسلامیہ کو گھیرنے کی کوشش‘‘۔ اس موضوع پر ایک اور مسلم پروفیسر کا انگریزی مضمون نظر سے گزرا۔ اس کا عنوان یہ تھا— موجودہ مسلمان محاصرے کی حالت میں:
Present Muslims Under Siege.
مسلم علما اور مسلم رہنماؤں کی طرف سے آج کل ہر جگہ اس طرح کی تحریریں چھپ رہی ہیں اور اس طرح کی تقریریں کی جارہی ہیں۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا عام ذہن یہی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہر جگہ وہ مخالفین کی طرف سے کی جانے والی دشمنی اور سازش کے درمیان گھرے ہوئے ہیں۔ ان کے خیال کے مطابق، یہ صورت حال اتنی عام ہے کہ وہ خود مسلم ملکوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ اس قسم کی منفی سوچ یقینی طور پر ایک غیر اسلامی سوچ ہے، وہ قومی ذہن سے نکلی ہوئی سوچ ہے، حقیقی اسلامی سوچ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ جو مسلمان اس طرح سوچتے ہیں، اُن کو قرآن کی حسب ذیل آیات پر غور کرنا چاہیے: الذین قال لهم الناس إن الناس قد جمعوا لكم فاخشوهم فزادهم إيمانا وقالوا حسبنا الله ونعم الوكيل۔ فانقلبوا بنعمة من الله وفضل لم يمسسهم سوء واتبعوا رضوان الله، والله ذو فضل عظيم۔
إنما ذلكم الشيطن يخوف أولياءه، فلا تخافوهم وخافون إن كنتم مؤمنين (3:173-175) یعنی یہ وہ ہیں کہ جن کو لوگوں نے بتایا کہ دشمن نے تمھارے لیے بڑی طاقت اکٹھا کی ہے تو تم اُن سے ڈرو، اس چیز نے ان کے ایمان میں اور اضافہ کر دیا اور وہ بولے کہ اللہ ہمارے لیے کافی ہے اور اللہ بہترین کارساز ہے۔ پس وہ اللہ کی نعمت اور اس کے فضل کے ساتھ واپس آئے۔ اُن لوگوں کو کوئی برائی پیش نہ آئی اور وہ اللہ کی رضا مندی پر چلے، اور اللہ بڑا فضل والا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2012 All issues