Present Muslims Under Siege.
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۲
قرآن کی اس آیت میں ”قد جمعوا لکم“ کے الفاظ میں جو بات نقل کی گئی ہے، وہ قدیم مدینہ کے منافقین کی بات تھی۔ منافقین نے جب یہ بات پھیلائی تو اس کو سن کر سچے اہل ایمان کا جواب کیا تھا، وہ قرآن کے ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے: حسبنا اللہ ونعم الوکیل۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان اندیشہ ناک باتوں کو سن کر سچے اہل ایمان کے دلوں میں کوئی خوف پیدا نہیں ہوا، بلکہ اُن کا ایمان اور زیادہ بڑھ گیا۔
منافق مسلمانوں اور سچے اہل ایمان کے درمیان یہ فرق کیوں تھا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ منافق مسلمانوں کو صرف ’مخالفین‘، نظر آتے تھے، وہ ان مخالفین کی باتوں سے اپنی رائے بناتے تھے۔ اُن کا حال یہ تھا کہ مخالفین کی طرف سے جو پروپیگنڈہ انھوں نے سنا، اس کو اُسی طرح مان لیا اور لوگوں کے درمیان اس کا چرچا کرنے لگے۔
سچے اہل ایمان کا معاملہ اس سے مختلف تھا۔ سچے اہل ایمان کی توجہ ہمیشہ اللہ کے وعدوں اور اللہ کی طرف سے آئی ہوئی بشارتوں پر ہوتی تھی۔ سچے اہل ایمان کا ذہن قرآن سے اور پیغمبر کی باتوں سے بنا تھا، نہ کہ کسی اور چیز سے۔ اس بنا پر سچے اہل ایمان کے اندر یہ بصیرت پیدا ہو چکی تھی کہ وہ منفی پروپیگنڈہ کا تجزیہ کر سکیں اور مخالفین کی باتوں سے اوپر اٹھ کر اپنی رائے بنائیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : أشداء علی الکفار (48:29) یعنی وہ غیرتاثر پذیر ذہن کے مالک ہیں۔ وہ مخالفین کی باتوں سے آزاد ہو کر اپنی رائے بناتے ہیں۔
سچے اہل ایمان کے اس ذہن نے ان کے اندر یہ اتھاہ یقین پیدا کر دیا تھا کہ جب وہ حق کے راستے پر چل رہے ہیں تو کوئی ان کو نقصان پہنچانے والا نہیں۔ اپنے اس ذہن کی بنا پر ان کا یہ حال تھا کہ وہ دوسروں کے خلاف شکایت اور احتجاج کرنے کے بجائے ہمیشہ خود اپنا جائزہ لیتے رہتے تھے، کیوں کہ ان کو یقین تھا کہ وہ حق پر ہیں، ان کو ضرور اللہ کی مدد پہنچتی رہے گی۔ اُن کے نزدیک اصل مسئلہ خود اپنے آپ کو صراط مستقیم پر قائم رکھنا تھا، نہ کہ دوسروں کے خلاف احتجاج کرنے کا۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2012 All issues