مغربی تہذیب کا مسئلہ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۲، صفحہ ۱۳
مغربی تہذیب کے تحت پیدا شدہ تعلیمی ادارے قتل گاہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مسلمانوں کا تعلق مغربی تہذیب سے بائیکاٹ کا ہونا چاہئے، نہ کہ اس سے تعاون کا۔
ابتدائی طور پر مسلم نو جوانوں پر بظاہر ان باتوں کا اثر ہوا۔ مسلم نوجوان مغربی تہذیب کے علم برداروں سے لڑنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔ انھوں نے مغربی تہذیب کے تحت قائم شدہ تعلیمی اداروں کو چھوڑ دیا، انھوں نے مغربی اداروں میں جاب لینے سے انکار کر دیا، وغیرہ۔ مگر بعد کو آسمان نے یہ منظر دیکھا کہ انھیں مسلم نو جوانوں نے بڑے پیمانے پر یوٹرن (U turn) لیا۔ انھوں نے اور ان کی اولاد نے مغربی تہذیب کے تحت قائم شدہ اداروں میں ڈگریاں حاصل کیں۔ وہ مغربی تہذیب کے اداروں کے کارکن بن گئے۔ وہ بہت بڑی تعداد میں مسلم ملکوں سے ہجرت کر کے مغربی ملکوں میں پہنچ گئے اور وہاں سٹل (settle) ہونے پر فخر کرنے لگے۔
قدیم فتنوں اور جدید تہذیب کے فتنہ میں نتیجہ (result) کے اعتبار سے یہ فرق کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ قدیم طرز کے فتنے صرف اعتقادی فتنے تھے، مگر مغربی تہذیب کا معاملہ یہ تھا کہ دنیا کی مادی ترقی سے وہ براہ راست جڑا ہوا تھا۔ مغربی تہذیب کے علم برداروں نے جونئی دنیا بنائی، وہ مادی اعتبار سے ایک نہایت شاندار دنیا تھی۔ اس کے مکانات، اس کے شہر، اس کے دفاتر، اس کی سواریاں، اس کے سامان حیات، ہر چیز نہایت اعلیٰ معیار کی تھی۔ اسی حقیقت کو موجودہ زمانے کے ایک مسلم شاعر نے طنزیہ انداز میں اس طرح بیان کیا تھا:
ہم مشرق کے مسکینوں کا دل مغرب میں جا اٹکا ہے واں کنسٹر سب بلوری ہیں، یا ںایک پرانا مٹکا ہے انسان اپنی نفسیات کے اعتبار سے ہمیشہ ترقی کا طالب ہوتا ہے۔ وہ اپنے لئے اور اپنی اولاد کے لئے زیادہ ترقی یافتہ مستقبل دیکھنا چاہتا ہے۔ مغربی تہذیب میں یہ پہلو نہایت اعلیٰ درجے میں موجود تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم مفکرین کی خلافِ مغرب مہم ابتداء نظری طور پر کامیاب ہو کر اپنے نتیجہ کے اعتبار سے مکمل طور پر نا کام ہوگئی۔ مسلم نوجوان ابتدائی طور پر رومانی جذبات کے تحت جدید تہذیب کے خلاف ہوگئے، مگر بعد کو جب انھوں نے دیکھا کہ ساری ترقیاں مغربی تہذیب اور مغربی علوم سے وابستہ ہیں، تو وہ
‹ Previous page Next page › Contents of December 2012 All issues