Al-Risala · December 2012 · page

مغربی تہذیب کا مسئلہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۲

سب کچھ بھول کر اس کے اوپر ٹوٹ پڑے۔ جن تعلیمی اداروں کو قتل گاہ سمجھ کر انھوں نے وقتی طور پر چھوڑ دیا تھا، وہ دوبارہ اُسی میں داخل ہوئے اور انھوں نے وہاں سے ڈگریاں حاصل کیں۔ جن مغربی قوموں کو انھوں نے مسلم دشمن قرار دیا، انھیں کے اداروں میں جاب لینے کو وہ اپنے لئے قابل فخر سمجھنے لگے۔ اُن کے بزرگوں نے جن مغربی ملکوں سے ہجرت کا فتویٰ دیا تھا، انھیں ملکوں میں واپس جا کر وہ پر فخر طور پر آباد ہونے لگے، وغیرہ۔

اصل یہ ہے کہ مغربی تہذیب کے دو حصے تھے—ایک، اس کی سائنس اور دوسرے، اس کا کلچر۔ مغربی سائنس حقائقِ فطرت کے انکشاف پر مبنی تھی۔ اُس کے اندر ذاتی طور پر غلطی کا کوئی پہلو شامل نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ مغربی سائنس، قرآن کی اِس آیت کی انفولڈنگ تھی: وسخر لكم ما في السموات وما فی الأرض جمیعاً منه (45:13)۔ وہ قرآن کے الفاظ میں: و آتاكم من كل ما سألتموه کا ٹیکنالوجیکل اظہار تھا۔ وہ آفاق و انفس کی آیات کی وہ تبیین تھی جس کی پیشگی اطلاع قرآن (41:53) میں دے دی گئی تھی۔

مغربی تہذیب کا دوسرا پہلو اس کا کلچر تھا۔ یہ کلچر براہِ راست طور پر سائنس کی پیداوار نہ تھا، بلکہ وہ قومی اور سماجی عوامل کی پیداوار تھا۔ قومی اور سماجی دائرے میں خالق نے ہر انسان کو آزادی دی ہے۔ اس دائرے میں انسان کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی ملی ہوئی آزادی کا صحیح استعمال کرے یا وہ اس کا غلط استعمال کرے۔ مغربی کلچر کے جن پہلوؤں کو لے کر ہمارے علما نے اُس کے خلاف ہنگامہ آرائی کی، وہ دراصل آزادی کے غلط استعمال (misuse of freedom) کا نتیجہ تھا، نہ کہ حقیقۂ مغربی سائنس کا نتیجہ۔ اس معاملے میں ہمارے مفکرین کو اصول تمیز (principle of differentiation) کو منطبق کرنا تھا، مگر وہ ایسا نہ کر سکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ امت کے افراد ایک فتنے کے استیصال کے نام پر ایک شدید تر فتنے کا شکار ہو گئے، یعنی دہر اپن۔ اس کا مزید نقصان یہ ہوا کہ وہ مغربی تہذیب کے پیدا کردہ مثبت مواقع کے استعمال سے محروم ہو کر رہ گئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2012 All issues

Printed page