دورِ فتنہ کی واپسی
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۲
ایک بار شروع ہونے کے بعد دوبارہ کبھی ختم نہ ہوئی ۔ ہزار سال سے بھی زیادہ مدت سے یہ جنگ امت مسلمہ کے اندر جاری ہے، کبھی ایک صورت میں اور کبھی دوسری صورت میں۔
تاریخ بتاتی ہے کہ بعد کے زمانے میں مسلمانوں کے درمیان مذہب کے نام پر سیاست شروع ہوگئی۔ یہ طریقہ بلاشبہ اسلام کی اصل تعلیمات سے انحراف تھا۔ اگر اس طریقے کو اسلام کا مطلوب طریقہ قرار دیا جائے تو کوئی کہنے والا جائز طور پر یہ کہہ سکتا ہے کہ اسلام نے مذہبی تعذیب کو ختم نہیں کیا، بلکہ اسلام نے مذہبی تعذیب کی جگہ سیاسی تعذیب کا طریقہ رائج کر دیا۔ اس طرح یہ ہوا کہ مذہبی تعذیب کا دور ختم ہو گیا، لیکن اس کی جگہ شدید تر انداز میں سیاسی تعذیب کا دور انسانی تاریخ میں واپس آگیا۔ یہ دوسرا دور اب تک جاری ہے۔ اس پورے دور کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ الفاظ (إذا وضع السيف في أمتي الخ) لفظ بلفظ درست ثابت ہوئے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ قدیم مذہبی تعذیب صرف جبر کے زور پر قائم تھی، اُس کی پشت پر کوئی فلسفہ یا نظریہ موجود نہ تھا، اس لیے اُس کو ختم کرنا آسان تھا، مگر بعد کے زمانے میں سیاسی تعذیب کا جو طریقہ رائج ہوا، اس کے ساتھ ایک مبّرّر (justification) موجود تھا۔ اُس کو اسلامی طور پر جائز کردہ تعذیب(Islamically justified persecution) کہا جاسکتا ہے۔ بعد کے دور میں پیدا ہونے والے تشدد کا یہی وہ نظریاتی پہلو ہے جس کی بنا پر اس کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ شروع ہونے کے بعد وہ پھر کبھی ختم نہ ہو سکا۔ اس معاملے میں اہم بات یہ ہے کہ قدیم طرز کا فتنہ صرف سیاسی جبر کا ایک فتنہ تھا، اُس کو جنگ کے ذریعے ختم کیا جا سکتا تھا، لیکن بعد کے زمانے میں پیدا ہونے والا فتنہ ایک نظریاتی فتنہ ہے، اس کو جنگ کے ذریعے ختم کرنا ممکن نہیں۔ اُس کو ختم کرنے کے لیے ایک طاقت ور جوابی نظریہ (counter ideology) درکار ہے۔ کوئی بھی دوسری تدبیر اس دوسرے فتنے کو ختم کرنے کے لیے موثر (effective) نہیں ہو سکتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2012 All issues