دورِ فتنہ کی واپسی
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۲
کے ذریعے مذہبی جبر کے اس کلچر کو ختم کرنے پر راضی نہ ہوں تو تم جنگ کر کے اس کلچر کو ختم کر دو، تا کہ انسان کو اختیار کی آزادی حاصل ہو جائے، جو کہ منصوبہ تخلیق کے مطابق، لازمی طور پر مطلوب ہے۔ قرآن کے الفاظ (8:39) پر غور کیا جائے تو یہ حکم صرف استیصال فتنہ کے لیے تھا، وہ کسی قسم کے نظام (system) کی اقامت یا نفاذ کے لیے نہ تھا، یعنی یہ حکم سلبی معنوں میں تھا، نہ کہ ایجابی معنوں میں۔ اس کا مطلب صرف یہ تھا کہ مذہبی آزادی کی راہ میں جو رکاوٹ حائل ہے، وہ ختم ہو جائے۔ اس کے بعد یہ آدمی کا اپنا معاملہ ہے کہ وہ اپنی آزادی کو خدا کی اطاعت کے لیے استعمال کرتا ہے، یا خدا سے انحراف کے لیے۔ فتنہ ابن زبیر میں شریک ہونے والوں سے عبداللہ بن عمر نے کہا تھا کہ: قاتلنا حتى لم تكن فتنة، وكان الدين لله - وأنتم تريدون أن تقاتلوا حتى تكون فتنة، ويكون الدين لغير اللہ۔ اس کا مطلب، دوسرے لفظوں میں، یہ ہے کہ قرآن میں جنگ کا حکم صرف ایک مقصد کے لیے دیا گیا تھا اور وہ تھا مذہبی تعذیب (religious persecution) کو ختم کرنے کے لیے، اور اصحابِ رسول نے جنگ کر کے اس کو ختم کر دیا۔ اب تم لوگ قرآن کی اس آیت کے نام پر اقتدار کی جنگ کر رہے ہو، جس کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ دنیا میں مذہبی تعذیب کی جگہ سیاسی تعذیب (political persecution) کا دور آجائے۔ یہ اصلاح کے نام پر صرف فساد ہے، اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔
عبداللہ بن عمر کے اس قول کو ایک حدیث کی روشنی میں سمجھیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو انتباہ دیتے ہوئے فرمایا تھا: إذا وضع السيف في أمتي، لم يرفع عنها إلى يوم القيامة (الترمذي، رقم الحديث: (2202) یعنی جب میری امت میں تلوار داخل ہو جائے گی تو وہ اُس سے قیامت تک نہ اٹھائی جائے گی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول پیشین گوئی کی زبان میں اُس صورتِ حال کی خبر ہے جو بعد کے زمانے میں امت کے اندر بہت بڑے پیمانے پر ایک واقعہ بن گئی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ رسول اللہ کی وفات کے تقریباً 25 سال بعد مسلمانوں کے درمیان ’اصلاحِ سیاست‘ کے نام پر باہمی جنگ کا آغاز ہوا۔ اس کو قدیم اصلاح کے مطابق ’’خروج‘‘ کہا جاتا ہے۔ تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ یہ سیاسی جنگ
‹ Previous page Next page › Contents of December 2012 All issues