Al-Risala · December 2012 · page

بے فائدہ عمل

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۲

بے فائدہ عمل

امریکا کی ایک کمپنی نے ایک فلم بنائی۔ اس فلم کا نام تھا ۔ مسلمانوں کی معصومیت (Innocence of Muslims)۔ ستمبر 2012 میں اس فلم کا ایک مختصر حصہ انٹرنیٹ پر ڈال دیا گیا۔ کچھ مسلمانوں نے اس کو دیکھا۔ پھر مسلمانوں کے درمیان بڑے پیمانے پر اس کا چرچا ہوا۔ مسلمانوں نے کہا کہ اس فلم میں پیغمبرِ اسلام کی توہین کی گئی ہے۔ اس پر ساری دنیا کے مسلمان بھڑک اٹھے اور مختلف ملکوں میں وہ اس فلم کے خلاف پرشور مظاہرے کرنے لگے۔ ان مظاہروں کے درمیان جان و مال کا شدید نقصان ہوا۔

نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (14 ستمبر 2012) میں ایک رپورٹ چھپی ہے۔ اس رپورٹ کا ایک حصہ یہ ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ کچھ ہی لوگوں نے اس فلم کو چند منٹ سے زیادہ دیکھا ہوگا، اور یہ امر سخت مشتبہ ہے کہ یہ فلم کبھی مکمل کی جاتی۔ لیکن اس کا تھوڑا سا حصہ جو آن لائن کیا گیا، اس میں اتنا بھونڈا پن اور مصنوعیت ہے کہ کوئی بھی اس کو سنجیدگی سے نہ لیتا، مگر مسلمانوں کے مظاہروں نے اس فلم کو عالمی طور پر شہرت دے دی:

In fact, few people have seen more than a few minutes of the film, and there are doubts if it was even completed. But the little that is online is so crude and contrived that it was not even taken seriously till Islamist mobs made it world-famous. (p. 26)

اس طرح کے فتنے کو قرآن میں شجر خبیثہ (14:26) کہا گیا ہے، یعنی وہ فتنہ جو اپنے آپ مر جانے والا ہو۔ ایسے فتنے کے بارے میں دانش مندی یہ ہے کہ اس کو نظر انداز کر دیا جائے۔ جو فتنہ اپنے آپ مر جانے والا ہو، اس کو مارنے کی کیا ضرورت۔ مگر عجیب بات ہے کہ مسلمان بار بار اس قسم کی بے دانشی کا شکار ہو رہے ہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو حضرت عمر فاروق نے ان الفاظ میں بیان فرمایا: أميتوا الباطل بالصمت عنہ۔ یعنی باطل کو ہلاک کرو اُس کے بارے میں چپ رہ کر۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2012 All issues

Printed page