Al-Risala · December 2012 · page 26

شتمِ رسول کا مسئلہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۲، صفحہ ۲۶

اور الیکٹرانک میڈ یا دونوں میں آرہی ہے۔ اس صورتِ حال کو دیکھ کر ساری دنیا میں ایک سوال کیا جارہا ہے، وہ یہ کہ — پر امن گستاخی کے جواب میں مسلمان خود پر تشدد گستاخ کیوں بن جاتے ہیں، رسول کی شان میں گستاخی‘ کرنے والا صرف یہ کرتا ہے کہ وہ اس قسم کی ایک کتاب شائع کرتا ہے، یا اخبار میں ایک کارٹون چھاپ دیتا ہے، یا ایک فلم بنا کر اس کو انٹر نیٹ پر ڈال دیتا ہے۔ یہ اگر گستاخی ہے تو وہ یقینی طور پر ایک پرامن گستاخی ہے، لیکن اس کے جواب میں مسلمان جو کچھ کرتے ہیں، وہ مبینہ طور پر ایک پر تشدد ردِ عمل یا پر تشدد گستاخی کا معاملہ ہے۔

پیغمبر آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اسلامی شریعت دی ہے، اُس میں واضح طور پر اس طرح کے معاملات میں ایک اصول بتایا گیا ہے، وہ اصولِ قصاص (2:178) کا اصول ہے، یعنی برابر کا بدلہ (equal retribution)- قصاص کی تعریف (definition) قرآن میں ان الفاظ میں دی گئی ہے: وإن عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم به، ولئن صبرتم لهو خير للصابرین (16:126)- تم بدلہ لو تو اتنا ہی بدلہ لو جتنا کہ تمھارے ساتھ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک اور آیت کے الفاظ یہ ہیں: وجزاء سيئة سيئة مثلها، فمن عفا وأصلح فأجره على الله، إنه لا يحب الظالمين (42:40) یعنی برائی کا بدلہ ہے ویسی ہی برائی، پھر جس نے معاف کر دیا اور اصلاح کی تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ بے شک اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ دو آپشن قرآن کی مذکورہ آیتوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کے معاملے میں اہل ایمان کے لیے دو میں سے ایک کا آپشن (option) ہے۔ ایک، عفو اور صبر کا آپشن اور دوسرا، قصاص کا آپشن۔ اس طرح کے معاملے میں مسلمانوں کے لیے انھیں دو میں سے ایک کا آپشن جائز ہے، اس کے سوا کوئی تیسرا آپشن لینا اُن کے لیے سرے سے جائز ہی نہیں۔ قتل کے معاملے میں اسلامی شریعت کا ایک مسلمہ قانون یہ ہے کہ زمانہ جنگ میں بھی صرف مقاتل (combatant) کو مارا جائے گا، غیر مقاتل (non-combatant) کو مارنا جنگ کے زمانے میں بھی جائز نہیں۔ ایسی حالت میں

‹ Previous page Next page › Contents of December 2012 All issues

Printed page