Al-Risala · December 2012 · page 27

شتمِ رسول کا مسئلہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۲، صفحہ ۲۷

اسلام کیسے اجازت دے سکتا ہے کہ امن کی حالت میں غیر مقاتل یا پر امن افراد کو مارا جائے۔ عفو اور صبر کے آپشن کا مطلب یہ ہے کہ آپ پیش آمدہ معاملے پر ردِ عمل کی نفسیات کے تحت نہ سوچیں، بلکہ اصلاح کی نفسیات کے تحت سوچیں۔ آپ یہ سوچیں کہ جو شخص اس’’گستاخی‘‘میں ملوث ہوا ہے، وہ بھی ایک انسان ہے۔ اس کے اندر بھی وہی فطرت موجود ہے جو دوسرے انسانوں کے اندر ہوتی ہے۔ اس لیے آپ ہمدردانہ انداز میں اس کی فطرت کو ایڈریس کرنے کی کوشش کریں۔ ہو سکتا ہے کہ اس کی اصلاح ہو جائے اور وہ توبہ کر کے اللہ کے نیک بندوں میں شامل ہو جائے۔ اس معاملے میں دوسرا آپشن وہ ہے جس کو قرآن میں قصاص کہا گیا ہے۔ یہ ثانوی درجے کا آپشن ہے۔ اس کی حیثیت صرف ایک قانونی جواز کی ہے۔ جہاں تک اسوہ رسول کا معاملہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کے معاملے میں ہمیشہ عفو اور صبر اور اصلاح کے طریقے کو اختیار فرمایا، کیوں کہ یہی طریقہ عزیمت اور خلقِ عظیم کا طریقہ ہے۔ جیسا کہ اس سلسلہ کلام کے تحت اگلی آیت میں ارشاد ہوا ہے: ولمن صبر وغفر إن ذلك لمن عزم الأمور (42:43) یعنی جس شخص نے صبر کا طریقہ اختیار کیا اور معاف کر دیا، تو بے شک یہ بڑی عزیمت کے اوصاف میں سے ہے۔ جراحت (harm) کی دو قسمیں ہیں—ایک، جسمانی جراحت (physical harm) اور دوسرے، نفسیاتی جراحت (psychological harm)۔ دونوں قسم کی جراحتوں کی نوعیت ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ قرآن کی مذکورہ آیتوں کے مطابق، جسمانی جراحت کی صورت میں ہمارے لیے دو آپشن ہیں—قصاص، اور عفو۔

جیسا کہ عرض کیا گیا، قصاص کا مطلب ہے: برابر کا بدلہ لینا، یعنی جتنا کسی نے کیا ہے، ٹھیک اتنا ہی اس کے ساتھ کرنا۔ اس کے مقابلے میں، عفو کا مطلب ہے: یک طرفہ طور پر صبر کر لینا، نہ کوئی عملی کارروائی کرنا اور نہ زبان سے اس کے خلاف شکایت یا احتجاج کے الفاظ بولنا۔ گویا اسلامی تعلیم کے مطابق، جسمانی جراحت کی صورت میں اہل ایمان کے لیے دو آپشن ہیں، لیکن نفسیاتی جراحت کی صورت میں اُن کے لیے صرف ایک آپشن ہے، اور وہ صبر کا آپشن ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2012 All issues

Printed page