قصاص کا اصول
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۲
پیش آنا یقینی ہے، یا تو وہ بظاہر پرامن احتجاج کسی مرحلے میں پہنچ کر لوگوں کو مشتعل کر دے گا اور پرامن احتجاج فوراً ہی پر تشدد احتجاج میں تبدیل ہو جائے گا۔ آغاز میں بظاہر وہ ایک پرامن احتجاج کی حیثیت سے شروع ہو گا، لیکن آخر میں وہ توڑ پھوڑ اور فساد اور تخریب کی شکل اختیار کر لے گا، جس کی ایک مثال پاکستان کے مذکورہ احتجاجی واقعے میں نظر آتی ہے۔
اگر بالفرض کوئی احتجاج واقعةً پرامن احتجاج ہو، وہ اول سے آخر تک امن کی شرط پر قائم رہے، تب بھی عملاً وہ ایک فساد کی حیثیت رکھتا ہے، کیوں کہ اس کے نتیجے میں وہ سنگین برائی پیدا ہوتی ہے جس کو باہمی نفرت کہا جاتا ہے، اور نفرت بلاشبہ ایک منفعل تشدد (passive violence) ہے۔ یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ تشدد اگر ایک بم ہے تو نفرت ایک ٹائم بم (time-bomb)۔ احتجاج کا حق "شتم رسول" کے مسئلے پر ساری دنیا کے مسلمان پرشور احتجاج (protest) کر رہے ہیں۔ اس پرشور احتجاج کے جواز کے لیے مسلمان یہ کہتے ہیں کہ ــ حقوق انسانی (human rights) کے مسلمہ اصول کے تحت احتجاج ہمارا ایک جائز حق ہے۔
سڑکوں پر احتجاجی جلوس نکالنا کوئی سادہ بات نہیں۔ گہرائی کے ساتھ غور کیجیے تو یہ ایک ایسا طریقہ ہے جس کو رسول اور اصحاب رسول نے کبھی اختیار نہیں کیا۔ مسلمان آج جس طرح کے واقعات پر جگہ جگہ احتجاجی جلوس نکالتے ہیں، اُس طرح کے ناخوش گوار واقعات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زیادہ بڑے پیمانے پر موجود تھے۔ مثلاً مقدس کعبہ میں مشرکین کی طرف سے سیکڑوں کی تعداد میں بتوں کا نصب کیا جانا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلے طور پر، نعوذ باللہ، مذمّم اور مجنون کہنا، وغیرہ۔ مگر حدیث اور سیرت کی کتابوں سے واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اور اصحاب رسول نے کبھی اِس کے خلاف احتجاج کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ رسول اور اصحاب رسول کے اس ثابت شدہ عمل سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ احتجاج کا طریقہ یقینی طور پر اسلام کا طریقہ نہیں۔ پھر احتجاج کا طریقہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو کہاں سے ملا۔ یہ طریقہ انھوں نے حقوق انسانی کی
‹ Previous page Next page › Contents of December 2012 All issues