قصاص کا اصول
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۲
جدید شریعت سے اخذ کیا ہے۔ یہ انسانی شریعت کی ایک دفعہ ہے جس کو 1948 میں اقوام متحدہ کے یونی ورسل ڈیکلریشن (universal declaration) کے ذریعہ وضع کیا گیا۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ زندگی کے دو طریقے ہیں۔ ایک ہے، حبل اللہ کے تحت جینا، اور دوسرا ہے، حبل الناس کے تحت جینا (3:112)۔ حبل اللہ کے تحت زندگی کا حق ملنا کسی امت کی مطلوب حالت ہے، اور حبل الناس کے تحت زندگی کا حق ملنا سرتا سر غیر مطلوب حالت۔ قرآن میں حبل اللہ اور حبل الناس کے الفاظ کسی امت کی دو مختلف حالتوں کو بتانے کے لیے آئے ہیں۔ امت کی ایک حالت وہ ہے جب کہ اس کے اندر خوف خدا کی روح موجود ہو اور وہ اپنے عمل کا نقشہ حبل اللہ، بالفاظ دیگر، خدائی تعلیمات (قرآن وسنت) سے اخذ کرے، اور حبل الناس کا مطلب یہ ہے کہ امت بے خوفی کی نفسیات میں مبتلا ہوگئی ہو اور اتباع شہوات (19:59) کی بنا پر وہ اپنے عمل کا نقشہ تعلیمات الہی سے اخذ کرنے کے بجائے انسان کے وضع کردہ ضابطوں سے اخذ کرنے لگے۔
حبل اللہ اور حبل الناس کی اس قرآنی تقسیم کے مطابق دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ موجودہ زمانے کے مسلمان خود اپنی زبان سے یہ اعلان کر رہے ہیں کہ اس معاملے میں وہ حبل اللہ پر قائم نہیں ہیں، بلکہ وہ حبل الناس پر قائم ہیں۔ وہ اپنے بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر اپنی احتجاجی روش کا جواز حبل اللہ میں نہ پا کر اس کو حبل الناس سے اخذ کر رہے ہیں، اور اپنے بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر وہ یہ کر رہے ہیں کہ اپنی غیر اسلامی روش کے لیے وہ حبل اللہ کے بجائے حبل الناس کا حوالہ دے رہے ہیں، جو کہ ان کی قومی خواہشات کے مطابق ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں اتباع شہوات کہا گیا ہے۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ آپ قرآن کی مذکورہ آیت (3:112) کا مطالعہ کیجیے اور دیکھیے کہ اس میں کس گروہ کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ وہ حبل اللہ کے بجائے حبل الناس سے اپنے لیے زندگی کا حق حاصل کر رہا ہے، یہ بلاشبہ ایک نہایت سنگین بات ہے۔ اس طرح مسلمان اپنے آپ کو اس گروہ کے ساتھ بریکٹ کر رہے ہیں جس کے بارے میں وہ خود صبح وشام یہ اعلان کرتے ہیں کہ وہ اللہ کے نزدیک ایک مغضوب اور ملعون گروہ کی حیثیت ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2012 All issues