دنیا سے انسان کے بے دخلی
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۲
یعنی عبد اللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ممبر کے اوپر قرآن کی مذکورہ آیت پڑھی۔ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو حرکت دیتے ہوئے کہا کہ اللہ اپنی تمجید کرے گا اور کہے گا کہ میں ہوں جبار، میں ہوں متکبر، میں ہوں بادشاہ، میں ہوں زبردست، میں ہوں کریم۔ کہاں ہیں زمین کے بادشاہ، کہاں ہیں جبار، کہاں ہیں متکبر۔ یہ کہتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر لرزہ طاری ہوا، یہاں تک کہ ہم نے کہا کہ شاید آپ گر پڑیں۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ وقت آگیا ہے جب کہ خالق کائنات ظاہر ہو اور براہ راست طور پر دنیا کا چارج لے لے ۔ اسباب کے اعتبار سے، یہ کہنا درست ہوگا کہ قرآن میں جس آنے والے وقت کی پیشین گوئی کی گئی تھی، وہ وقت بالفعل آچکا ہے، اُس وقت کے آنے میں اب کوئی دیر نہیں۔ لائف سپورٹ سسٹم کی تباہی دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے انسان کو بہت سی چیزوں کی ضرورت ہے۔ مثلاً پانی، روشنی، آکسیجن، نباتات، وغیرہ ۔ ان چیزوں کے مجموعے کو لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہا جاتا ہے، یعنی معاون حیات نظام۔ سائنس کی تحقیقات بتاتی ہیں کہ زمین پر یہ معاون حیات نظام خطر ناک حد تک بگڑ گیا ہے، سائنس داں برابر یہ انتباہ دے رہے ہیں کہ زمین پر انسان کی آباد کاری بہت جلد ناممکن ہو جائے گی، یہاں تک کہ مشہور برٹش سائنس داں اسٹیفن ہاکنگ نے اس صورت حال کی نشان دہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم کو اب خلائی بستیاں (space colonies) بنانا چاہیے، حالاں کہ اسٹیفن ہاکنگ اور دوسرے تمام لوگ جانتے ہیں کہ یہ تجویز عملاً ممکن نہیں۔ زمین کا وہ حصہ جس کو آرکٹک (Arctic) کہا جاتا ہے، یہ برف کے بہت بڑے پہاڑ کی مانند ہے جو کئی ہزار مربع میٹر کے رقبے میں پھیلا ہوا ہے۔ یہ برفانی پہاڑ زمین پر موسم کے توازن کو قائم رکھنے کے لیے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ آرکٹک (قطب شمالی) کا یہ خطہ مختلف پہلوؤں سے زمین پر انسان کی آبادی کے لیے بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ مگر بیسویں صدی کے ربع آخر میں، جب سے گلوبل وارمنگ کے ظاہر ر نے شدت اختیار کی ہے، قطب شمالی کی یہ برف بہت تیزی سے پگھل رہی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2012 All issues