Al-Risala · December 2012 · page

دنیا سے انسان کے بے دخلی

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۲

سائنس دانوں کے اندازے کے مطابق، شاید اندیشہ ہے کہ اگلے 10 برسوں میں یہ پورا برفانی پہاڑ پگھل کر سمندروں میں چلا جائے ۔ اس کی بنا پر مختلف قسم کے خطرناک نتائج پیدا ہوں گے جو زمین کو انسان کے لیے ناقابلِ رہائش بنا دیں گے۔ اس سائنسی تحقیق کا خلاصہ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (14 اگست (2012 میں حسب ذیل عنوان کے تحت شائع ہوا ہے:

Arctic Sea Ice May Vanish in 10 Years (p. 19)

خلاصہ کلام

اوپر جو کچھ لکھا گیا، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان نے اُس نوعیت کا ایک بہت بڑا واقعہ کیا ہے جس کو نظریاتی سرقہ کہا جاتا ہے۔ وہ چیز جس کو جدید تہذیب کہا جاتا ہے، وہ پوری کی پوری اسی جرم کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے۔ اس جرم میں موجودہ زمانے کی پوری آبادی شریک ہے۔ جن لوگوں نے اس تہذیب کو وجود دیا، وہ اس جرم میں براہِ راست طور پر شریک ہیں، اور بقیہ لوگ جو تہذیب کے اس جرم پر نکیر (denial) کیے بغیر اُس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، وہ بالواسطہ طور پر اس جرم میں شریک ہیں۔ اس نظریاتی سرقہ (plagiarism) کے خلاف خالق کی کارروائی مستقبل بعید کی چیز نہیں رہی۔ یہ کارروائی اب عملاً شروع ہو چکی ہے۔ اس کارروائی کو ایک لفظ میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ خالق نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ انسان کو مذکورہ جرم کی بنا پر زمین سے بے دخل کر دیا جائے۔ خالق کا یہ فیصلہ لائف سپورٹ سسٹم کے خاتمے کی صورت میں بتدریج ظاہر ہو رہا ہے۔ بظاہر وہ وقت بہت قریب آ چکا ہے جس کی پیشین گوئی قرآن کی مختلف آیتوں میں کی جا چکی تھی۔

نوٹ : صدر اسلامی مرکز کا مذکورہ خطاب سی پی ایس کے حسب ذیل ویب سائٹ پر دیکھا جا سکتا ہے: http://cpsglobal.org/content/end-human-history-12th-aug-12 پٹنہ (بہار) میں قارئینِ الرسالہ کی ماہانہ میٹنگ شروع ہو گئی ہے۔ پتہ حسب ذیل ہے: A. H. M. Danyal (President, Centre for Peace)

Mahatwana, Phulwarisharif, Patna-601505, Bihar Mob. 9308477841, 0612-3255435

‹ Previous page Next page › Contents of December 2012 All issues

Printed page