Shift of Emphasis, 2nd September 2012
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۲
میں بہت دنوں سے قرآن کو سمجھنا چاہتی تھی۔ آپ نے مجھ کو قرآن پڑھنے کا موقع دیا، شکریہ (مز پونم بترا، اندور) کٹر وادی و چار دھار اسے بچنے اور سچا گیان حاصل کرنے کا ایک ہی راستہ ہے، اور وہ ہے سچائی کو خود سے ڈسکور کرنا۔ اس مقصد کے لیے میں قرآن پڑھنا چاہتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ قرآن خدا کی کتاب ہے، اور وہ صحیح راستہ دکھاتا ہے۔ اگر چہ اس پر کچھ پردے پڑے ہوئے ہیں، لیکن ہم کو خود ہی ان پردوں کو ہٹانا ہوگا۔ (مہیش یادو، اندور) قرآن میں آسان طریقے سے بتایا گیا ہے کہ بندہ اپنے خدا کو کس طرح پا سکتا ہے۔ خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ وہاں شرمندگی نہ ہو، چہرہ اجلا رہے، یہی سب سے بڑی چیز ہے۔ (دوا کر دو گولے، ناگ پور) سی پی ایس کے لٹریچر میں مذہب کو جس طرح پازیٹیو انداز میں پیش کیا گیا ہے، اس کے لیے ہم آپ لوگوں کے بہت شکر گزار ہیں۔ (راجیش مدھو لکر، ناگ پور)
میں بہت دنوں سے اسلام کے بارے میں سوچ رہی تھی، مجھ کو سی پی ایس کے بک اسٹال سے اچھی کتابوں کا سیٹ مل گیا۔ شاید میں ان کتابوں کے ذریعے اسلام کو سمجھ سکوں۔ (مر سونیا منے، ناگ پور)
18- الرسالہ مشن سے متعلق مولاناعبدالباسط عمری، دوحہ، قطر کا ایک تاثر یہاں نقل کیا جاتا ہے: ”ہم احساس محرومی میں جیتے تھے، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ احساس یافت میں جینے کے قابل بنایا۔ ہم بے شعور تھے، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ ہمیں شعور عطا کیا۔ ہم ظواہر اسلام میں جیتے تھے، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ روحِ اسلام سے متعارف ہونے کا موقع دیا۔ اسلام ہمارے لئے ہاتھ کی چھنگلیا کی طرح تھا، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ اسے ہماری حقیقی زندگی میں شامل کیا اور اس کو ہمارے لئے روحانی غذا اور ذہنی ارتقا کا ذریعہ بنا دیا۔ ہم خدا کی شعوری دریافت سے محروم تھے، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ ہمیں خدا کی شعوری دریافت سے متعارف کیا۔ ہم خدا کو مانتے ہوئے خدا سے دور تھے، ہمیں معلوم تھا کہ خدا ارحم الراحمین ہے اور ہمیں اس سے
‹ Previous page Next page › Contents of December 2012 All issues