Shift of Emphasis, 2nd September 2012
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۲
حب شدید ہونا چاہیے، لیکن خدا کی دی ہوئی عظمتیں ہم کو کم لگتی تھیں، یہی وجہ تھی کہ ہم حقیقی جذبات شکر سے محروم تھے، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ بتایا کہ خدا کے ارحم الراحمین ہونے کو کس طرح دریافت کیا جائے اور خدا سے حب شدید کا طریقہ کیا ہے۔ ہم صرف نفی غیر کو جانتے تھے اور اسی کو خالص توحید سمجھے ہوئے تھے۔ نفی ذات کیا ہے، اس سے ہم کلی طور پر بے خبر تھے، یہی وجہ تھی کہ ہم سچی تواضع سے بھی محروم تھے۔ اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ نفی ذات کا شعور عطا کیا۔ ہم اللہ اکبر کا مطلب یہ سمجھتے تھے کہ اللہ بڑا ہے، اس لئے’’لوگو‘‘ تم بڑے نہیں ہو، اس سے فخر اور ذاتی بڑائی کا احساس پیدا ہوتا تھا، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ ہمیں بتایا کہ اللہ اکبر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ بڑا ہے، اس لئے’’میں‘‘ بڑا نہیں ہوں۔ اس سے تواضع کی اسپرٹ پیدا ہوتی ہے۔ ہم کنفیوژن میں جیتے تھے۔ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا؟ وہ کون سا کام ہے جس کو ہمیں اپنا سپریم کنسرن بنانا چاہئے۔ اس وقت اسلام کے نام پر اٹھنے والی مسلم تحریکوں کا حال وہ ہے جس کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: کل حزب بما لديهم فرحون (23:53)۔ ہر ایک یہ کہتا کہ کرنے کا کام تو یہ ہے جو ہم کر رہے ہیں۔ اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ ہمیں اس کنفیوژن سے نکالا اور ہمیں بتایا کہ دعوت اور معرفت کے سوا کوئی بھی دوسری چیز ہمارا مقصد زندگی نہیں، کوئی بھی دوسرا کام ہمارے لئے سپریم کنسرن کی حیثیت نہیں رکھتا۔ ہم مایوسی اور شکایت کی نفسیات میں جیتے تھے، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ ہمیں دکھایا کہ اس دنیا میں ہر طرف امکانات ہی امکانات ہیں۔ ہمیں بس انہیں دریافت کرنے کی ضرورت ہے، اس کے بعد ہمارے اندر شکر ہی شکر پیدا ہوگا، ہمارے اندر سے شکایت اور مایوسی کا کلی طور پر خاتمہ ہو جائے گا۔ ہماری حالت یہ تھی کہ ہم دعوت اور عداوت دونوں میں جیتے تھے، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ خالص دعوت الی اللہ کو ہمارے اوپر کھولا اور ہمیں پورے معنوں میں ساری انسانیت کے لئے کامل خیر خواہ بنایا۔ ہم قومی فخر میں جیتے تھے، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ ہم کو خدا کے شکر میں جینا سکھایا۔ ہم اسلام اور مسلمان دونوں کو ایک چیز سمجھتے تھے، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ بتایا کہ اسلام اور مسلمان دو بالکل الگ الگ چیزیں ہیں، وہ ہرگز ہم معنی نہیں۔ ہم تشدد کلچر اور نفرت کلچر میں جیتے تھے، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ ہمیں امن کلچر میں جینا سکھایا۔ ہم اسلاف کی عظمت میں جیتے تھے، ہم اس کیفیت میں جیتے تھے کہ ماترك الأولون للآخرين شئينا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کی دی ہوئی عقل اور اللہ کا عطا کیا ہوا دماغ بند پڑا ہوا تھا، اللہ نے الرسالہ مشن کے ذریعہ ہم کو بتایا کہ ساری نعمتیں صرف اللہ کے لیے ہیں (العظمة لله وحده)۔ اس دریافت نے ہمارے دماغ کو کھولا، اور ہمیں ذہنی ارتقا کی نعمت سے نوازا اور ہمیں اپنے ان صاحب معرفت بندوں میں شامل ہونے کی تربیت اور توفیق دے رہا ہے جن کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ: يغبطهم الأنبياء والشهداء يوم القيامة الخ۔ یہ چند احساسات تھے، جو میرے دماغ میں ہلچل پیدا کر رہے تھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2012 All issues