Al-Risala · February 2012 · page

I admire your patience. Here is a gift for you.

الرسالہ، فروری ۲۰۱۲

شکاگو سے دہلی کے لیے ڈائرکٹ فلائٹ ہے جو تقریباً 13 گھنٹے میں دہلی پہنچتی ہے۔ یہ فاصلہ تقریباً 13 ہزار کلومیٹر ہے۔ یہ ایک نان اسٹاپ پرواز ہے۔ راستے میں مجھ کو نیند آگئی۔ بہت دیر تک میں سوتا رہا۔ اس طرح آسانی کے ساتھ راستہ طے ہو گیا۔

دہلی سے شکاگو کے سفر میں ایک واقعہ پیش آیا۔ ہمارے قریب بزنس کلاس کی تین سیٹ ایک شخص کے پاس تھی۔ اُس کے لیے، اُس کی بیوی کے لیے اور اس کے چھوٹے بچے کے لیے۔ بچہ غالباً دو سال کا تھا۔ بچہ کسی وجہ سے مسلسل روتا چلا تار ہا۔ اس کی ماں گھنٹوں اس کو گود میں لے کر بہلاتی رہی، لیکن وہ چپ نہیں ہوتا تھا۔ گھنٹوں کے بعد غالباً بچہ تھک کر سو گیا۔ اس کی ماں ذرا بھی غصہ نہ ہوئی اور نہ اس نے کسی قسم کی پریشانی کا اظہار کیا۔ وہ نارمل طریقے سے بچے کو چپ کرانے کی کوشش کرتی رہی۔ جہاز جب دہلی ائر پورٹ پر اترا تو ڈاکٹر فریدہ خانم، قرآن کے انگریزی ترجمے کا ایک نسخہ لے کر اُس عورت کے پاس گئیں۔ انھوں نے اس کو قرآن کا ترجمہ دیا اور کہا:

I admire your patience. Here is a gift for you.

اُس عورت نے نہایت شوق سے قرآن کا نسخہ لیا۔ عورت انڈین تھی اور اس کا شوہر امریکن تھا۔ یہ ایک سادہ واقعہ ہے، لیکن اس میں بہت بڑا سبق ہے، وہ یہ کہ قرآن کا انگریزی ترجمہ جب چھپ کر تیار ہو چکا ہے تو اس کے بعد کسی کو کچھ زیادہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اب آدمی کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ موقع کے لحاظ سے تالیف قلب کا ایک جملہ بولے اور قرآن کا ایک نسخہ مخاطب کو پیش کر دے۔ 15 جون 2011 کو میں دہلی سے امریکا گیا۔ 6 جولائی 2011 کو دوبارہ دہلی واپسی ہوئی۔ تین ہفتہ کے سفر کے بعد جب میں دہلی واپس آیا تو میں نے پایا کہ سفر سے پہلے جو کچھ مجھے دہلی میں ملا ہوا تھا، وہ دوبارہ میرے لئے اُسی طرح یہاں موجود تھا۔ اس تجربے سے میری سمجھ میں آیا کہ کیا وجہ ہے کہ لوگ موت کے واقعہ سے بالکل بے خبر رہتے ہیں۔ وہ ہر سفر کے بعد جب واپس آتے ہیں تو وہ دیکھتے ہیں کہ سب کچھ پہلے کی طرح یہاں ان کے لیے موجود ہے۔ اس طرح غیر شعوری طور پر ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ موت کے بعد بھی اُن کو وہ سب کچھ اسی طرح حاصل رہے گا جو موت سے

‹ Previous page Next page › Contents of February 2012 All issues

Printed page