Al-Risala · February 2012 · page

Islamic Society of North America

الرسالہ، فروری ۲۰۱۲

گیا تھا۔ وہاں ساحل پر سمندر کے کنارے ہر طرف بحری جہاز دکھائی دے رہے تھے۔ ان مناظر کو دیکھ کر مجھ کو قرآن کی یہ آیت یاد آئی : ولقد کرمنا بني آدم وحملناہم في البر والبحر (70:17) امریکہ کے سفر میں جہاں بھی گیا، ہر جگہ ہندوستان اور پاکستان کے لوگ کثرت سے ملے۔ دونوں ملکوں کے لوگ بڑی تعداد میں آکر یہاں آباد ہوئے ہیں اور اکثر وہ اپنی فیملی کے ساتھ یہاں رہتے ہیں۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ 1947 سے پہلے انڈیا اور پاکستان دونوں جگہ کے رہنما رومانٹک باتیں کرتے تھے۔ انڈیا کے لیڈر یہ کہتے تھے کہ آزادی کے بعد وہ انڈیا میں سوشلسٹ نظام بنائیں گے، اور پاکستان کے لیڈر یہ کہتے تھے کہ پاکستان بننے کے بعد وہاں اسلامی نظام بنایا جائے گا۔ دونوں جگہ کے لیڈر مشترک طور پر امریکی ماڈل کے خلاف بولتے تھے، جو کہ اُن کے نزدیک سرمایہ داری اور پرائیویٹ اکانمی کے اصول پر مبنی تھا۔ مگر 1947 کے بعد دونوں جگہ کے لوگ بڑی تعداد میں اپنے ملک کو چھوڑ کر امریکہ چلے گئے۔ مگر امریکہ میں مقیم انڈیا اور پاکستان کے لوگوں میں سے کوئی بھی شخص مجھے نہیں ملا جو یہ مانے کہ 1947 سے پہلے ہم غلطی پر تھے۔ سب کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے لیڈروں کی غلطی کو مانے بغیر امریکہ میں اپنی فیملی کے لیے جگہ بنانے میں مشغول ہیں۔ یہ لوگ اگر اپنی غلطی کو مان لیتے تو ان کے لیے یہاں رہنا جائز ہوتا۔ لیکن اپنی غلطی کو مانے بغیر اس طرح امریکہ میں آباد ہونا صرف دہر اپن ہے، اور دہر اپن بلاشبہ اعلیٰ شخصیت کی تعمیر میں سب سے بڑی رکاوٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ 5 جولائی 2011 کو ہم لوگ صبح کو 11 بجے ہلٹن ہوٹل سے نکل کر ائر پورٹ کے لیے روانہ ہوئے ۔ یہ ہوٹل، ائر پورٹ سے بہت قریب ہے۔ ائر پورٹ پر اقبال صاحب اور ان کی فیملی کے دوسرے ممبران ملاقات کے لیے آئے۔ وہ سب کے لیے کھانا لے کر آئے تھے۔ کھانے سے فراغت کے بعد یہاں ایک مختصر کلاس ہوئی۔ تقریباً 15 افراد تھے۔ ان میں عورتیں اور مرد دونوں تھے۔ میں نے حدیث: ذاق طعم الإيمان، من رضي بالله رباً، وبالإسلام دینًا، وبمحمد رسولاً (صحيح مسلم، رقم الحديث : 34) کی روشنی میں آدھ گھنٹہ تقریر کی۔ اس میں تزکیہ اور تربیت کے اعتبار سے میں نے چند باتیں کہیں ۔ یہ تقریر اُسی وقت ریکارڈ کر لی گئی۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2012 All issues

Printed page