Al-Risala · February 2012 · page

غلطی کرنے کے بعد

الرسالہ، فروری ۲۰۱۲

غلطی کرنے کے بعد

انسان سے ہمیشہ غلطیاں ہوتی ہیں۔ عربی زبان میں یہ مقولہ ہے: الإنسان مركب من الخطأ و النسیان (انسان غلطی اور بھول کا مجموعہ ہے)۔ انگریزی زبان میں کہا جاتا ہے - to err is human ایسی حالت میں انسان کو کیا کرنا چاہیے۔ اس کا جواب ایک حدیثِ رسول میں ملتا ہے۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کل ابن آدم خطاء وخیر الخطائین التوابین (الترمذي، کتاب القیامة) یعنی انسان ہمیشہ غلطی کرتا ہے اور بہتر غلطی کرنے والا وہ ہے جو غلطی کے بعد تو بہ کرے۔ غلطی کرنے کے بعد انسان کو ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ وہ کسی دوسرے کو اس معاملے کا ذمے دار ٹھہر اکر اس کی شکایت کرنے لگے۔ اس قسّم کا رد عمل سرا سر بے فائدہ ہے۔

آدمی کو چاہئے کہ وہ ایسے موقع پر خود اپنا محاسبہ (introspection) کرے، وہ اپنی کوتاہی کو دریافت کر کے اپنی زندگی کی نئی منصوبہ بندی کرے۔ اُس کا ذہن یہ ہونا چاہئے کہ جو کچھ کھویا گیا، وہ اب مجھے واپس نہیں مل سکتا۔ اس لیے اب مجھے یہ کرنا ہے کہ میں اپنی اصلاح کر کے اپنے آپ کو مزید نقصان سے بچاؤں۔

اس معاملے کا دوسرا پہلو وہ ہے جو آخرت سے تعلق رکھتا ہے۔ ہر غلطی کے بعد آدمی کو یہ کوشش کرنا چاہئے کہ اس کی دنیا کی غلطی اُس کے لیے آخرت کے نقصان کا سبب نہ بن جائے۔ آپ کی غلطی اگر آپ کے اندر منفی نفسیات پیدا کر دے تو یہی وہ چیز ہے جو آخرت کے نقصان کا باعث بن جاتی ہے۔ غلطی کے بعد اپنے آپ کو اس سے بچائیے کہ آپ دوسروں سے نفرت کرنے لگیں۔ آپ کے اندر مایوسی کے جذبات پیدا ہو جائیں، آپ معتدل انداز میں سوچنے کے قابل نہ رہیں، آپ کے اندر خدارخی سوچ کے بجائے انسان رخی سوچ بن جائے، آپ کچھ اور کرنے کا حوصلہ کھودیں— اس قسم کی تمام چیزیں انسان کی آخرت کو تباہ کرنے والی ہیں۔ انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کو ہر قیمت پر اس قسم کی منفی احساسات (negative feelings) سے بچائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2012 All issues

Printed page