موت کا الارم
الرسالہ، فروری ۲۰۱۲
موت کا الارم
اکتوبر 2011 میں کئی مشہور افراد کی موت ہوئی۔ مثلاً کینیڈا کا سائنس داں رالف اسٹین مین (RalphSteinman)۔ 3 اکتوبر 2011 کو ان کا انتقال ہوا، جب کہ ان کی عمر 68 سال تھی۔ اُن کو میڈیسن پر نوبل پرائز ملنے والا تھا۔ نوبل پرائز کے اعلان سے صرف تین دن پہلے ان کا انتقال ہو گیا: He died just three days before he could be told of his award. اسی طرح امریکا کے کمپیوٹر ایکسپرٹ اسٹیو جابس (Steve Jobs) کی وفات 6 اکتوبر 2011 کو ہوئی، جب کہ ان کی عمر 56 سال تھی۔ وہ امریکی کمپنی ایپل (Apple) کے سابق چیف ایگزیکٹیو اور اس کے شریک بانی تھے۔ انھوں نے آئی فون اور آئی پوڈ سے دنیا کو متعارف کرایا۔ ان کی موت ایپل کی طرف سے آئی فون کا نیا ماڈل S-4 جاری کئے جانے کے صرف ایک ماہ بعد ہوئی۔ اسی طرح انڈیا کے مشہور سنگر (singer) جگ جیت سنگھ جن کو کنگ آف غزل کہا جاتا تھا، اپنے کیریئر کے عین عروج کے زمانے میں 10 اکتوبر 2011 کو اچانک ان کا انتقال ہو گیا۔ بوقت وفات ان کی عمر 70 سال تھی۔ ایک حادثے میں اپنے بیٹے کی موت کے بعد انھوں نے یہ شعر گایا تھا جو ان کی موت کے بعد خود اُن پر صادق آ گیا :
چٹھی نہ کوئی سندیش ، جانے وہ کون سادیش، جہاں تم چلے گئے !
موت کا یہ واقعہ جو ہر دن کسی نہ کسی عورت یا مرد کے ساتھ پیش آتا ہے، وہ ہر ایک کے لیے ایک الارم ہے۔ موت یہ بتاتی ہے کہ اس دنیا میں انسان کے لیے صرف محدود مدت تک رہنا مقدر ہے ، اس کے بعد وہ اپنے خالق کے پاس چلا جاتا ہے، تا کہ وہ اپنے ابدی انجام کا فیصلہ سنے۔ ہر انسان کو سب سے پہلے یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی زندگی اور موت کے بارے میں اپنے خالق کے تخلیقی منصوبہ کو جانے ، وہ خالق کی منشا کے مطابق ، اس دنیا میں اپنی زندگی گزارے، تا کہ موت کے بعد آنے والی اگلی دنیا میں وہ اپنے خالق کا انعام پا سکے، یعنی ابدی جنت کا انعام۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2012 All issues