Al-Risala · March 2013 · page

کنزیومرازم کا دور

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۳

کنزیومرازم کا دور

تھائی لینڈ جنوب مشرقی ایشیا (South East Asia) کا ایک ملک ہے۔ پہلے یہ ملک سیام (Siam) کے نام سے مشہور تھا۔ 1939ء سے اس کو تھائی لینڈ (Thailand) کہا جانے لگا۔ یہاں کی بیشتر آبادی بدھ ازم کو مانتی ہے۔ قدیم زمانے میں یہ ایک زرعی ملک تھا۔ یہاں کی زندگی نہایت سادہ تھی۔ بیشتر لوگ کم آمدنی میں زندگی گزارتے تھے۔ اُس زمانے میں یہاں بدھ مذہب اور بدھ کلچر تیزی سے پھیلا۔ ملک کی تقریباً پوری آبادی بدھسٹ بن گئی۔

بیسویں صدی کے آخر میں یہاں مغربی کمپنیاں آئیں۔ صنعت اور تجارت کو فروغ ہونے لگا، یہاں تک کہ اکیسویں صدی میں پہنچ کر یہ حال ہوا کہ تھائی لینڈ میں ترقی کا ایک نیا دور آگیا۔ جو لوگ پہلے غریب سمجھے جاتے تھے، اب وہ امیر بن گئے۔ لوگوں کی قوتِ خرید (purchasing power) بہت بڑھ گئی۔ جدید طرز کے شاپنگ سنٹر ہر جگہ کھل گئے۔ اشیاء صرف (consumer goods) کی مانگ بہت بڑھ گئی۔ اس صورت حال کا نتیجہ یہ ہوا کہ تھائی لینڈ کا کلچر بالکل بدل گیا۔ پہلے بودھ مندروں میں بھیڑ ہوا کرتی تھی، اب بازاروں میں بھیڑ دکھائی دینے لگی۔ روایتی طریقے کے مطابق، پہلے یہ تھا کہ بدھسٹ منک (Buddhist Monk) لوگوں کے گھروں سے کھانا مانگ کر لاتے تھے۔ اب وہ اپنے آفس سے ریستوراں کو ٹیلی فون کرتے ہیں اور کھانا ان کے آفس میں آجاتا ہے۔ ایک بدھسٹ نے کہا کہ اب تھائی لینڈ کا مذہب بدھ ازم نہیں ہے، بلکہ کنزیومرازم ہے:

Consumerism is now the Thai religion.

یہ صورتِ حال صرف تھائی لینڈ کی نہیں ہے، بلکہ آج ساری دنیا کا سب سے بڑا مذہب وہی بن چکا ہے جس کو کنزیومرازم کہا جاتا ہے، حتیٰ کہ عملاً اُن لوگوں کا بھی جو بظاہر روایتی قسم کے مذہبی لباس میں دکھائی دیتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ انیسویں صدی میں ساری دنیا میں ایک نیا دور شروع ہوا، جب کہ اشیاء صرف کے بارے میں ایک نیا تصور دنیا میں آگیا۔ یہ کلچر اب اتنا بڑھ چکا ہے کہ اس کو کنزیومر انقلاب (consumer revolution) کہا جاتا ہے۔ اب خواہ سیکولر لوگ ہوں یا بظاہر مذہبی لوگ،

‹ Previous page Next page › Contents of March 2013 All issues

Printed page