Consumerism is now the Thai religion.
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۳
راقم الحروف نے 1961 کا ایک واقعہ ہندوستان ٹائمس کے حوالے سے اپنے ایک مضمون مطبوعہ ماہ نامہ زندگی (رام پور) میں اس طرح نقل کیا تھا: "نئی دہلی میں ہندوستان کے بین الاقوامی صنعتی میلہ میں امریکا کی طرف سے ایک ہوائی موٹر کار کی نمائش کی گئی ہے، جس کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ زمین پر بھی چلتی ہے اور زمین سے چند فٹ بلند ہو کر 60 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوا میں بھی اڑ سکتی ہے۔ اس کار کو جب ایک نوجوان سادھو نے دیکھا تو اس کے سامنے ایک نیا مسئلہ پیدا ہو گیا۔ کیا میں تیاگ کی زندگی کو چھوڑ کر مادی ترقیات کی دنیا میں اپنے حوصلوں کی تسکین ڈھونڈوں۔ گیروے کپڑے میں ملبوس اور لمبے بکھرے ہوئے بالوں والا یہ ہندوستانی نوجوان 20 منٹ تک اس امریکی کار کو دیکھتا رہا جس کو مستقبل کی کار (Car of the future) کا نام دیا گیا ہے۔ جب اس کے بارے میں سادھو کا تبصرہ پوچھا گیا تو اس نے گہرے تاثر کے ساتھ جواب دیا کہ اس نے مجھے اس سوچ میں ڈال دیا ہے کہ دونوں دنیاؤں میں سے وہ کون سی دنیا ہے جس کو میں اپنے لیے زیادہ بہتر سمجھوں۔ (قرآن کا مطلوب انسان، صفحہ 49) اصل یہ ہے کہ قدیم زمانے میں ضرورت کی چیزیں بہت کم تھیں اور جو چیزیں تھیں، وہ بھی نہایت سادہ ہوتی تھیں۔ قدیم زمانے میں پرکشش سامانومات کا کوئی وجود نہ تھا۔ یہ ایک نیا ظاہرہ ہے جو جدید صنعت کے بعد دنیا میں پیدا ہوا اور انیسویں صدی اور بیسویں صدی کے دوران بہت زیادہ عام ہو گیا۔ اب ساری دنیا کا یہ حال ہے کہ کوئی شخص سیکولر ہو یا مذہبی، دونوں ہی کا طرزِ فکر صرف ایک ہے اور دونوں کا معبد بھی صرف ایک ہے، اور وہ ہے شاپنگ سنٹر۔ اب آخرت کی جنت صرف ایک روایتی عقیدہ بن کر رہ گئی ہے۔ عملاً ہر ایک کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی جنت اسی دنیا میں بنانا چاہتا ہے۔ ہر آدمی زبانِ قال یا زبانِ حال سے کہہ رہا ہے کہ جنت آج کی دنیا میں شاپنگ سنٹر کا ایک آئٹم بن چکی ہے۔ ایسی حالت میں جنت کے حصول کے لیے کل آنے والی دنیا کا انتظار کرنے کی کیا ضرورت۔ ایک حدیث اس موضوع سے بہت زیادہ متعلق ہے۔ یہ حدیث صحیح مسلم میں مختصراً آئی ہے۔ امام ذہبی نے اس کو اپنی کتاب العلو للعلي الغفار في صحيح الأخبار (رقم الحديث: 98) میں تفصیل کے ساتھ نقل کیا ہے۔ علامہ ناصر الدین البانی نے اس حدیث کو تفصیلی متن کے ساتھ
‹ Previous page Next page › Contents of March 2013 All issues