Consumerism is now the Thai religion.
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۳
تخريج مشكاة المصابیح (رقم الحدیث: 741) میں لکھا ہے۔ انھوں نے اس روایت کے بارے میں یہ الفاظ لکھے ہیں: له شاهد، إسناده حسن (اس کے حق میں شواہد موجود ہیں اور سند کے اعتبار سے یہ روایت حسن کا درجہ رکھتی ہے)۔ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: أن حبرا من اليهود سأل النبي - صلى الله عليه وسلم - : أي البقاع خير ؟ فسكت عنه ، وقال : أسكت ، حتى يجيء جبريل ، فسكت ، ثم جاء جبريل ، فسأله ، فقال : ما المسؤول عنها بأعلم من السائل ، ولكن أسأل ربي - تبارك وتعالى - ؛ ثم قال جبريل : يا محمد ! إني دنوت من الله دنوا ما دنوت مثله قط ؛ قال : كيف كان يا جبريل ؟ ، قال : كان بيني و بينه سبعون ألف حجاب من نور ، فقال : شر البقاع أسواقها ، وخير البقاع مساجدها۔
ترجمہ: ایک یہودی عالم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ زمین کا سب سے بہتر مقام کون سا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ آپ نے کہا کہ ٹھہرو، یہاں تک کہ جبریل آجائیں۔ پھر وہ شخص خاموش ہو گیا۔ اس کے بعد جبریل آپ کے پاس آئے تو آپ نے اُن سے پوچھا۔ جبریل نے کہا کہ اس سوال کے بارے میں سائل، مسئول سے زیادہ نہیں جانتا۔ تاہم میں اپنے رب سے پوچھوں گا۔ پھر جبریل نے کہا کہ اے محمد، میں اللہ سے اتنا زیادہ قریب ہوا جتنا کہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ آپ نے پوچھا کہ یہ کیسے ہوا اے جبریل۔ جبریل نے کہا کہ میرے اور خدا کے درمیان ستر ہزار نورانی پردے تھے۔ اُس وقت اللہ نے جواب دیا کہ ــــ زمین کا سب سے برا مقام بازار ہیں اور سب سے اچھا مقام مسجدیں ہیں۔
یہ حدیث آج کے حالات میں زیادہ قابل فہم ہوگئی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانے کے اسواق (شاپنگ سنٹر) زمین کا سب سے زیادہ برا مقام (evil spot) بن گئے ہیں۔ ان شاپنگ سنٹروں نے انسان کی سوچ کو بالکل بدل دیا ہے۔ اب انسان کی سوچ کا مرکز نہ خدا ہے اور نہ جنت اور نہ اونچے اقدار (high values)۔ اب ہر عورت اور مرد دیوانگی کی حد تک ایک ہی چیز کا طالب
‹ Previous page Next page › Contents of March 2013 All issues