Consumerism is now the Thai religion.
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۳
بن گیا ہے اور وہ ہے دور جدید کے پر رونق شاپنگ سنٹروں میںجانا اور وہاں شاپنگ کرنا۔ اللہ کے فضل سے مجھے شاپنگ کا کوئی شوق نہیں۔ مجھے یاد ہے کہ بچپن میں میں یوپی کے ایک گاؤں میں رہتا تھا۔ ہمارے گاؤں سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر ہر سال دسہرہ بازار لگتا تھا۔ گاؤں کے بچے وہاں جاتے تھے اور مجھ کو بھی اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ دوسرے بچوں کا حال یہ تھا کہ دسہرہ بازار میں وہ نہایت شوق کے ساتھ خریداری کرتے تھے اور خالی جیب کے ساتھ گھر واپس آتے تھے۔ اس کے برعکس، میرا حال یہ تھا کہ جاتے ہوئے میری ماں میری جیب میں کچھ پیسے ڈال دیتی تھیں، مگر میں دسہرہ بازار میں کوئی خریداری نہیں کرتا تھا اور واپس آ کر پورا پیسہ اپنی ماں کو لوٹا دیتا تھا۔ کانفرنسوں میں شرکت کے سلسلے میں مجھے مختلف ملکوں میں سفر کرنے کا موقع ملا۔ میں یہ دیکھتا تھا کہ کانفرنس کے شرکا کا نفرنس کی کارروائی ختم ہونے کے بعد مقامی بازار میں جاتے تھے اور اپنے متعلقین کے لیے باقاعدہ خریداری (shopping) کرتے تھے۔ لیکن میں کبھی کسی ملک کے بازار میں خریداری کے لیے نہیں گیا۔ 1998 کا واقعہ ہے۔ میں ایک انٹر نیشنل کانفرنس میں شرکت کے لیے امریکا گیا۔ وہاں میرے کچھ ساتھی ــ خواجہ کلیم الدین، فاروق چشتی، وغیرہ اپنے ساتھ مجھ کو بازار لے گئے۔ وہاں اپنے لیے ان کو اوور کوٹ (over coat) خریدنا تھا۔ ہر ایک نے اپنی پسند کے مطابق، اوور کوٹ خریدا اور پھر مجھ سے کہا کہ آپ بھی کوئی کوٹ پسند کیجیے، ہم اس کو خرید کر آپ کو بطور تحفہ دیں گے۔ مگر میں کوٹ کے شوروم سے الگ کھڑا ہو کر اپنے خیالات میں گم رہا۔ میں نے کوٹ کی طرف دیکھا بھی نہیں۔ میری اس بے رغبتی کو دیکھ کر میرے ایک ساتھی نے کہا کہ ــ آج میں نے یہ جانا کہ دنیا کتنی زیادہ حقیر ہے۔
کشش گنج (بہار) میں ماہ نامہ الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ حسب ذیل پتے پر دستیاب ہیں: CPG Messege Forum At+P.O. Bahadurganj, Main Road Kishanganj. Pin-855101, Bhihar Mob. 9470272115, 9430900563
‹ Previous page Next page › Contents of March 2013 All issues