Al-Risala · March 2013 · page

معرفت کا سفر

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۳

اور اس کا قانون کیا ہے۔ ارشمیدس اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں مشغول ہو گیا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ وہ پانی کے ٹب میں نہا رہا تھا۔ اس دوران ایک موقع پر اس کو ایسا محسوس ہوا کہ اس کا جسم پانی کے اوپر تیر رہا ہے۔ اس پر غور کرتے ہوئے اس نے وہ سائنس دریافت کی جس کو ہائیڈرو اسٹیٹک (hydro static) کہا جاتا ہے۔ اس دریافت کا خلاصہ یہ تھا کہ جب پانی میں کوئی چیز ڈالی جاتی ہے تو وہ پانی کی جتنی مقدار کو ہٹاتی (displace) ہے، اسی کے بقدر وہاں اوپری دباؤ (upward pressure) پیدا ہوتا ہے۔ اسی فطری عمل کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ کشتی پانی میں تیرنے لگتی ہے:

Hydrostatics: upward thrust exerted on a body immersed in fluid equals weight of fluid displaced. اس طرح، انسان ایک کے بعد ایک دریافتیں کرتا رہا، مگر یہ تمام دریافتیں طبیعیات کے دائرے میں تھیں۔ آخر کار معلوم ہوا کہ طبیعیات (physics) کے ماورا بھی ایک دنیا ہے۔ اس فوق الطبیعی دنیا کے بارے میں عام ذرائع سے کچھ معلوم نہیں کیا جا سکتا۔ اس طرح ایک وقت آیا، جب کہ انسانی سائنس اپنی آخری حد پر پہنچ گئی۔ اس آخری حد کے بعد علم کا جو اگلا مرحلہ ہے، اس میں سائنس براہِ راست مددگار نہیں ہو سکتی۔

یہی وہ مقام ہے، جہاں سے پیغمبرانہ رہنمائی کی حد شروع ہوتی ہے۔ آدمی طبیعیات کی دنیا میں بطور خود واقفیت حاصل کر سکتا ہے، لیکن بالائے طبیعیات جو دنیا ہے، اس کے بارے میں صرف پیغمبر کے ذریعے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ پیغمبر، خدائی وحی کے ذریعے بولتا ہے، نہ کہ انسانی تجربات کے ذریعے ۔ یہ پیغمبرانہ رہنمائی اب قرآن کی شکل میں موجود ہے جو محفوظ کلام الہی کی حیثیت رکھتا ہے۔ افکار کی تاریخ فلسفے کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ قدیم یونان میں اس کا ابتدائی نشوونما ہوا۔ یونانی فلاسفہ عام طور پر یہ سمجھتے تھے کہ مادہ (matter) قدیم ہے، یعنی وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ چوتھی صدی قبل مسیح کے یونانی فلسفی ارسطو (Aristotle) کا نظریہ یہی تھا۔ بعد کو یونان کے باہر بھی بڑے بڑے دماغ پیدا ہوئے، جنھوں نے فلسفے کے شعبے میں نمایاں کام انجام دیے۔ تاہم یہ تمام لوگ

‹ Previous page Next page › Contents of March 2013 All issues

Printed page