Al-Risala · March 2013 · page

معرفت کا سفر

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۳

مادہ (matter) کو قدیم سمجھنے میں مشترک (common) تھے۔ مگر بیسویں صدی عیسوی کے نصف اول میں پہنچ کر کائنات کا یہ قدیم مادی تصور (material concept) ٹوٹ گیا۔ اس کے بعد جو کچھ پیش آیا، وہ برطانی عالم فلکیات سر جیمز جینز (وفات: 1946) کے الفاظ میں یہ تھا کہ علم کا دریا میکانکل حقیقت سے نان میکانکل حقیقت کی طرف )non-mechanical reality( )mechanical reality( چلا جا رہا ہے (The Mysterious Universe, p. 138)۔

مذکورہ مادی تعبیر کے تحت یہ نظریہ بنا کہ ہمیں خدا جیسے کسی وجود کو ماننے کی ضرورت نہیں۔ جس فکری ضرورت کے تحت خدا کے وجود کو مانا جا رہا تھا، وہ خود اب مادہ (matter) کے ذریعے پوری ہو رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ مادہ نے خود اپنے آپ کو پیدا کیا۔ تمام موجودات، مادہ کے اندر اسی طبعی اور کیمیاوی سرگرمیوں (physical and chemical activities) کا نتیجہ ہیں۔ مگر بیسویں صدی کے رُبع اوّل میں بگ بینگ (Big Bang) کا نظریہ دریافت ہوا۔ بگ بینگ کے نظریے نے بتایا کہ پندرہ بلین سال پہلے خلا میں ایک سپراینم ظاہر ہوا۔ پھر اچانک اس میں ایک دھماکہ (explosion) ہوا۔ اس سپراینم کے بے شمار ذرات وسیع خلا میں بکھر گئے، پھر یہ ذرات مختلف فلکیاتی اجسام (astronomical bodies) کی صورت میں اُن گنت تعداد میں اکٹھا ہوئے، اس طرح ہماری کائنات وجود میں آئی۔ بگ بینگ کے نظریے نے کائنات کی قدیم مادی تعبیر کا خاتمہ کر دیا۔ اب خالص علمی اعتبار سے یہ ماننا ممکن ہو گیا کہ اس کائنات کا ایک خالق موجود ہے۔ وہی اس کو کنٹرول کر رہا ہے اور وہی اس کو انتہائی بامعنی طور پر چلا رہا ہے۔ سر آئزاک نیوٹن (وفات: 1727) کو ماڈرن سائنس کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ نیوٹن کے بعد سائنس میں جو نیا دور آیا، اِس میں کچھ نئی حقیقتیں دریافت ہوئیں۔ انھیں میں سے ایک حقیقت وہ ہے جس کو ضابطۂ ناکارگی (Law of Entropy) کہا جاتا ہے۔ اس طبعی قانون نے یہ ثابت کیا کہ کائنات اپنی عمر کے لحاظ سے لامحدود (endless) نہیں ہے۔ اس کی ایک مدت ہے اور اس مدت کے پورا ہونے پر اس کا خاتمہ ہو جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2013 All issues

Printed page