مسلم نو جوان
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۳
مسلم نو جوان
موجودہ زمانے کے مسلم نوجوانوں کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ ذہنی اعتبار سے ایک غیر یقینی صورت حال میں مبتلا ہیں۔ روایتی اسلام جو بطور ورثہ اُنھیں ملا ہے، وہ ان کے ذہن کو مطمئن نہیں کرتا۔ اسلام کا کوئی دوسرا تصور جو اُن کو مطمئن کرنے والا ہو، وہ اُن کو معلوم نہیں۔ مسلم نوجوانوں کی یہ غیر یقینی صورت حال ہر جگہ پائی جاتی ہے، عرب میں بھی اور غیر عرب میں بھی، مشرق میں بھی اور مغرب میں بھی۔
نوجوان طبقہ ہمیشہ کسی قوم کا اصل اثاثہ ہوتا ہے۔ مسلم نوجوان بلا شبہ مسلم امت کا سب سے بڑا اثاثہ ہیں۔ ضرورت ہے کہ اُن کو بے یقینی سے نکالا جائے اور اُن کو یقین کی حالت تک پہنچایا جائے ۔ اس سلسلے میں بنیادی بات یہ ہے کہ ان نوجوانوں کو وہ روایتی انداز اپیل نہیں کر سکتا جس میں سارا زور یہ کرو اور وہ نہ کرو (do's and don'ts) پر ہوتا ہے۔ صحیح یہ ہے کہ اُن کے سامنے اسلام کی تعلیمات کو اُس اسلوب میں بیان کیا جائے جو اُن کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے والا ہو، جس میں اسلام کو عقلی انداز (rational way) میں پیش کیا گیا ہو۔ موجودہ حالت میں یہ نوجوان صرف اسلام کے روایتی ڈھانچے کو جانتے ہیں، یعنی وہ اسلام جس میں سارا زور صرف ظاہری شناخت اور فارم پر ہوتا ہے۔ اس قسم کا اسلام موجودہ زمانے کے نوجوانوں کی اصلاح کے لیے مؤثر نہیں ہو سکتا۔ موجودہ زمانے کے مسلم نو جوانوں کی اصلاح کے لیے ضرورت ہے کہ اسلام کو اُن کے سامنے مبنی بر عقل اسلوب (reason-based idiom) میں پیش کیا جائے۔ موجودہ حالت میں پہلا کام یہ ہے کہ اسلام کا شعور اُن کے اندر اس طرح پیدا کیا جائے کہ وہ اسلام کو از سر نو دریافت کر سکیں۔ اسلام کی دوبارہ فکری دریافت ہی موجودہ زمانے کے مسلم نوجوانوں کو یقین عطا کر سکتی ہے۔ اگر ایسا ہو تو اسلام اُن کے لیے ایک عظیم مشن بن جائے گا، اسلام اُن کے لیے ایک ایسا مشن بن جائے گا جو لا محدود طور پر جاری رہنے والا ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2013 All issues