Al-Risala · March 2013 · page

معرفت کا سفر

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۳

ہو جائیں گے اور انسان مادی راحت کے تمام سامان پالے گا، مگر جلد ہی گلوبل وارمنگ کا ظاہرہ سامنے آیا اور یہ منصوبہ تکمیل سے پہلے ہی ختم ہو گیا۔

جیسا کہ معلوم ہے، موجودہ زمانے کی تمام مادی ترقیاں جدید صنعتی انقلاب کے ذریعے حاصل ہوئی ہیں۔ یہ جدید صنعتی دور، مشینوں کے ذریعے وجود میں آیا ہے۔ پہلے انسان، فطرت کی پیداوار پر زندگی گزارتا تھا۔ فطرت کا کارخانہ کوئی مسئلہ پیدا کیے بغیر انسان کو اپنی پیدا وار دے رہا تھا۔ مگر صنعتی دور میں انسانی ساخت کی مشینوں کو متحرک رکھنے کے لیے مسلسل ایندھن (fuel) کی ضرورت تھی۔ انسانی ساخت کی ان مشینوں کے حرکت میں آنے سے ایک نیا مسئلہ پیدا ہو گیا۔ وہ کاربن ایمیشن (carbon emission) کا مسئلہ تھا۔ شروع میں یہ مسئلہ بظاہر کوئی سنگین مسئلہ نظر نہیں آتا تھا، لیکن اکیسویں صدی عیسوی کے آتے ہی یہ مسئلہ انتہائی سنگین صورت اختیار کر گیا۔ مثال کے طور پر قدیم زمانے میں انسان، فطرت کے فراہم کردہ گھوڑے اور اونٹ پر سواری کرتا تھا۔ یہ گھوڑے اور اونٹ کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرتے تھے۔ گھوڑے اور اونٹ فطرت کی پلوشن فری انڈسٹری (pollution free industry) میں پیدا ہوتے تھے اور خود بھی کوئی پلوشن (کثافت) پیدا کیے بغیر ساری عمر اپنا کام کرتے رہتے تھے۔ اس کے مقابلے میں، موجودہ زمانے کی کار اور ہوائی جہاز انسانی ساخت کے کارخانوں میں بنائے گئے ہیں۔ یہ کارخانے لازمی طور پر مہلک قسم کی فضائی کثافت پیدا کرتے ہیں۔ یہ کثافت اب بڑھتے بڑھتے اُس خطرناک نقطے تک پہنچ گئی ہے، جہاں سے اُس کے لیے واپسی ممکن نہیں۔ اب انسان کے لیے اس کی تاریخ کا اگلا مرحلہ صرف یہ ہے کہ وہ موجودہ دنیا سے گزر کر اگلی دنیا میں پہنچ جائے۔

اندور (مدھیہ پردیش) میں الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ کے لیے حسب ذیل پتے پر رابطہ کریں: Mr. Shakeel Ahmad 0/13, Jhulelal Bharan, LIG Colony, Indore-452011, M.P. Mob. 09329043153, 08889807129 E-mail: ahmedshkeel000@gmail.com

‹ Previous page Next page › Contents of March 2013 All issues

Printed page