فکرِ مغرب
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۳
گلیلیو سے پہلے دنیا میں زمین مرکزی نظریہ (geo-centric theory) کو مانا جاتا تھا، جس کو ٹالمی (Claudius Ptolemy) اور ارسطو (Aristotle) کی حمایت حاصل تھی۔ گلیلیو نے ثابت کیا کہ زمین مرکزی نظریہ غلط ہے اور اس کے مقابلے میں وہ نظریہ درست ہے جس کو آفتاب مرکزی نظریہ (heleo-centric theory) کہا جاتا ہے۔
اس کے بعد تاریخ میں ایک نیا عقلی دور یا سائنسی دور شروع ہوا۔ اس دور میں عقلی ثبوت کا یہ معیار قرار پایا کہ قابلِ اعتماد علم صرف وہ ہے جو قابل تصدیق علم (verifiable knowledge) ہو۔ دور بینی مشاہدہ نے زمین مرکزی نظریہ کی تصدیق نہیں کی، اس لیے علمی دنیا میں اُس کو رد کر دیا گیا، جب کہ دور بینی مشاہدہ نے آفتاب مرکزی نظریہ کی تصدیق کر دی، اس لیے وہ عقلی طور پر درست قرار پایا۔ سائنس دراصل اسی قابل تصدیق علم (verifiable knowledge) کا اصطلاحی نام ہے۔ اہل سائنس نے علم وحی (revealed knowledge) کا انکار نہیں کیا، البتہ انھوں نے علم وحی کو اپنے دائرہ تحقیق سے باہر قرار دیا، کیوں کہ وہ ان کے نزدیک قابل تصدیق نہ تھا۔ اس کے بعد علم کی دنیا میں ایک تقسیم (bifurcation) کا طریقہ وجود میں آگیا۔ اب علم وحی کا دائرہ الگ ہو گیا اور عقلی علم یا سائنسی علم کا دائرہ الگ۔ یہ تقسیم بجائے خود غلطی نہ تھی۔ اس کی بنا پر اہل سائنس کو یہ موقع ملا کہ وہ آزادانہ طور پر اپنی تحقیق کو جاری رکھ سکیں۔ اس طرح سائنس کی تحقیق کا دائرہ اُس دنیا سے ہو گیا جس کو فطرت (nature) کہا جاتا ہے۔ اسی لیے سائنس کو دوسرے الفاظ میں، فطری علم (natural science) یا مادی علم (physical science) کہا جاتا ہے۔ تائیدی علم سائنسی علم براہ راست طور پر اسلامی علم نہ تھا، لیکن بالواسطہ طور پر وہ اسلام کے لیے ایک تائیدی علم کی حیثیت رکھتا تھا۔ عقل کی صلاحیت کو لے کر سائنسی دنیا میں جو تحقیقات ہوئیں، اُس سے اسلام کو بہت زیادہ فائدے حاصل ہوئے۔ اس اعتبار سے، سائنس کا پورا علم، اسلام کے لیے تائیدی علم کی حیثیت رکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید سائنس اُس حدیث رسول کی مصداق ہے جو پیشین گوئی
‹ Previous page Next page › Contents of March 2013 All issues