فکرِ مغرب
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۳
کی زبان میں ان الفاظ میں آئی ہے : إن الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر (صحیح البخاري، رقم الحديث: 3062)۔
فطرت میں سائنسی تحقیق کے ذریعے جو دریافتیں وجود میں آئیں، وہ خاص طور پر دو اعتبار سے، اسلام کے لیے غیر معمولی تائید کی حیثیت رکھتی تھیں۔ ایک قسم کی تائید وہ تھی جو اس سائنس کے ذریعے حاصل ہوئی جس کو نظریاتی سائنس (theoretical science) کہا جاتا ہے۔ اور اسلام کے لیے دوسری تائید وہ تھی جس کو اصطلاحی طور پر انطباقی سائنس (applied science) کہا جاتا ہے۔ نظریاتی سائنس نے یہ کیا کہ اس نے فطرت (nature) میں چھپے ہوئے وہ قوانین دریافت کیے جو اب تک غیر معلوم تھے۔ ان قوانین کے بارے میں اشارات قرآن میں موجود تھے، لیکن قرآن میں ان کی تفصیل موجود نہ تھی۔ اہلِ ایمان کو ابھارا گیا کہ وہ زمین و آسمان میں غور کر کے ان تفصیلات کو دریافت کریں، جو کہ ان کے لیے اضافہ ایمان کا ذریعہ ہیں۔ لیکن بعد کے زمانے کے مسلمان یہ کام نہ کر سکے۔ آخر کار، اللہ تعالیٰ نے اہلِ سائنس کے ذریعے یہ کام لیا۔ اللہ تعالیٰ کا یہی منصوبہ ہے جس کو قرآن میں مستقبل کی پیشین گوئی کے طور پر اس طرح بیان کیا گیا ہے: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53) اس معاملے کی ایک مثال قرآن کی یہ آیت ہے: وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً مُبَارَكًا (50:9) یعنی ہم نے آسمان سے مبارک پانی اتارا۔ قرآن کی اس آیت میں اُس آفاقی تطہیر کا ذکر ہے جس کو موجودہ زمانے میں ازالہ نمک (desalination) کہا جاتا ہے۔ پانی کا ذخیرہ جو سمندروں میں جمع ہے، اُس میں تحفظاتی مادہ (preservative) کے طور پر تین فی صد نمک ملا ہوا ہے۔ یہ نمکین پانی انسان کے لیے ناقابل استعمال ہے۔ یہاں فطرت کے قانون کے مطابق، ایک عظیم آفاقی عمل ہوتا ہے جس کے ذریعے سمندر کا پانی نمک سے الگ ہو کر اوپر فضا میں جاتا ہے اور پھر بارش کی صورت میں خالص پانی زمین کی طرف لوٹتا ہے جس کو انسان اپنی ضرورتوں کے لیے استعمال کرتا ہے۔ قرآن میں، مبارک کے لفظ کی صورت میں اُس کا اشارہ موجود تھا،
‹ Previous page Next page › Contents of March 2013 All issues