حرفِ آخر
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۳
کرنے لگے۔ وہ مذہب کو الہامی ظاہرہ (revealed phenomenon) تسلیم کرنے کے بجائے، اس کو صرف ایک سماجی ظاہرہ (social phenomenon) سمجھنے لگے۔ وہ اپنے مزاج کے مطابق، پیغمبر اور پیغمبر کے کام کا اسی طرح تجزیہ کرنے لگے جس طرح وہ مادی چیزوں کا تجزیہ کر رہے تھے۔ جدید مفکرین کا یہ طریقہ از روئے حقیقت درست نہ تھا، لیکن اس کا سبب عناد یا سازش نہ تھی، بلکہ وہ اُن کے اختیار کردہ طریقِ مطالعہ کا نتیجہ تھا۔ اگر چہ یہ طریقہ مذہب کے خلاف تھا، مگر وہ کسی بد نیتی کا نتیجہ نہ تھا۔ وہ بطور خود اس کو درست طریق مطالعہ سمجھتے تھے۔ اگر چہ یہ طریقہ مذہب کے خلاف تھا، مگر وہ کسی بدنیتی کا نتیجہ نہ تھا۔ وہ بطور خود اسی کو درست طریق مطالعہ سمجھتے تھے۔ سنجیدگی کے ساتھ ان کا یہ یقین تھا کہ یہ طریقہ جس طرح مظاہرِ فطرت کے مطالعے میں کامیاب ثابت ہوا ہے، اسی طرح وہ وحی والہام کے مظاہر کے مطالعے میں بھی کامیاب ہو سکتا ہے۔
سائنس دانوں نے جو کام کیا، وہ تائید (support) کے اعتبار سے، اہلِ اسلام کے لیے انتہائی مفید تھا، لیکن مسلم ذہن اپنی منفی سوچ کی بنا پر اس فرق کو سمجھ نہ سکا۔ انھوں نے نئے دور میں پیدا ہونے والی مغربی تہذیب کو کلی طور پر اسلام دشمنی کا کیس قرار دے دیا، حالاں کہ اگر وہ اس معاملے میں غیر جانب دارانہ انداز میں اہل مغرب کے کیس کو سمجھتے تو وہ جان لیتے کہ اہل مغرب کا کام، خود پیغمبرِ اسلام کی پیشین گوئی کے مطابق، باعتبار نتیجہ، تائیدِ دین کی حیثیت رکھتا تھا، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے تخریب دین کا معاملہ نہ تھا۔
حرفِ آخر
موجودہ زمانے میں اہل مغرب کا کنٹری بیوشن (contribution) ت زیادہ ہے، سیکولر اعتبار سے بھی اور اسلامی اعتبار سے بھی۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ اہل مغرب کی کوششوں سے ایک نئی دنیا وجود میں آئی ہے، جس کو جدید تہذیب (modern civilization) کہا جاتا ہے۔ جدید تہذیب اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے، منصوبہ بہ خداوندی کا ایک حصہ ہے۔
اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب تھا کہ فطرت میں چھپے ہوئے قوانین دریافت کیے جائیں۔ فطرت
‹ Previous page Next page › Contents of March 2013 All issues