Al-Risala · March 2013 · page

عصری ذہن

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۳

اس معاہدے کے مطابق، مسیحی چرچ اس پر راضی ہو گیا کہ اس کا دائرہ اختیار روم کے ایک مختصر علاقہ ویٹکن (Vatican) تک محدود رہے گا جس کا کل رقبہ صرف 109 ایکڑ ہے۔

اس طرح تاریخ میں ایک نیا دور شروع ہوا جس کو سائنس کا دور کہا جاتا ہے۔ اگر اس واقعے کو مذہبی اصطلاح میں بیان کیا جائے تو اس دور کو ایمان بالغیب کے بجائے ایمان بالشہود کا دور کہا جائے گا۔ اس دور میں فطرت کا مطالعہ مشاہدے اور تجربے کی روشنی میں کیا جانے لگا۔ اس کے نتیجے میں فطرت کے اندر چھپے ہوئے بے شمار رموز دریافت ہوئے جو اب تک انسان کے لیے غیر دریافت شدہ بنے ہوئے تھے۔ اس کے نتیجے میں نئی ٹکنالوجی، نئی صنعتیں، نئے ذرائع و وسائل انسان کی دسترس میں آگئے۔

یہ نئی مسحور کن دنیا تمام تر آبجیکٹیو مطالعہ (objective study) کے ذریعے انسان کی دسترس میں آئی تھی۔ اس میں مبنی بروحی مطالعہ کا بظاہر کوئی دخل نہیں تھا۔ یہ دور بظاہر سائنس دانوں کی تحقیقات کے نتیجے میں پیدا ہوا۔ اس دور کا ایک عملی نتیجہ یہ تھا کہ قابل پیمائش (measurable) کو نا قابل پیمائش (non-measurable) سے الگ کر دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں علمی دنیا میں فکر کا وہ طریقہ رائج ہوا جس کو موضوعی طریق مطالعہ (objective method of study) کہا جاتا ہے۔ اس طریقے کی عملی کامیابی کی بنا پر اس کو موجودہ دور میں رواج عام حاصل ہو گیا۔ سائنس دانوں نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ اُن کا طریق مطالعہ تمام حقائق کو جاننے کے لیے واحد کار آمد طریقہ ہے۔ اس کے برعکس، انھوں نے کھلے طور پر یہ تسلیم کیا کہ سائنس پورے علم حقیقت کا احاطہ نہیں کرتی، وہ حقیقت کا صرف جزئی علم دیتی ہے:

Science gives us but a partial knowledge of reality. سائنسی طریق مطالعہ اپنی عملی کامیابی، نہ کہ نظری صداقت کی بنا پر موجودہ زمانے میں بہت زیادہ عام ہو گیا، حتی کہ فلاسفہ اور مفکرین نے بھی اسی طرزِ فکر کو اختیار کر لیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ جس طرح فطرت (nature) کا مطالعہ موضوعی انداز میں کرتے تھے، اسی طرح وہ مذہب کا مطالعہ بھی موضوعی انداز میں

‹ Previous page Next page › Contents of March 2013 All issues

Printed page