Al-Risala · March 2013 · page

کامیابی کا طریقہ

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۳

کامیابی کا طریقہ

ایک صاحب سروس کرتے تھے۔ ایک عرصے تک سروس کرنے کے بعد اُن کو احساس ہوا کہ سروس کی آمدنی بچوں کی ترقی کے لیے کافی نہیں۔ اس لیے انھوں نے سروس چھوڑ دی اور ایک بزنس شروع کر دیا، تاکہ وہ زیادہ کما ئیں اور بچوں کو زیادہ ترقی دلاسکیں، مگر عملاً یہ ہوا کہ بزنس میں اُن کو مطلوب کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ چناںچہ پریشان میں مبتلا ہو گئے۔ آخر کار، اُن کو کینسر ہو گیا اور بچوں کے لیے زیادہ پیسہ کمانے سے پہلے وہ اس دنیا سے چلے گئے۔

اس طرح کا واقعہ مختلف صورتوں میں اکثر لوگوں کے ساتھ پیش آتا ہے، مگر وہ ہر ایک کے لیے تباہ کن ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ وہ حقیقت پسند (realitst) بنیں۔ وہ اپنی زندگی کا منصوبہ خود اپنی استطاعت کی بنیاد پر بنائیں، نہ کہ اپنی اولاد کے بارے میں اپنی امنگوں (ambitions) کی بنیاد پر۔ وہ بچوں کے مستقبل کی تعمیر کے معاملے کو خود بچوں پر چھوڑیں۔ وہ ایسا ہر گز نہ کریں کہ بچوں کی خاطر اپنے آپ کو تباہ کر لیں اور آخر کار خود بچوں کو بھی۔ بچوں کی ترقی کی سب سے بڑی ضمانت یہ ہے کہ خود اُن کے اندر عمل کا جذبہ پیدا ہو، اُن کے اندر داخلی اسپرٹ جاگے، وہ خود حالات کو سمجھیں اور حالات کے مطابق، اپنی زندگی کی تعمیر کریں۔ ترقی وہ ہے جو آدمی کو خود اپنی محنت سے ملے۔ دوسروں کی طرف سے دی ہوئی ترقی کوئی ترقی نہیں۔ اس قسم کی خواہش رکھنے والے لوگ اکثر ناکام ہو جاتے ہیں۔ اس قسم کی خواہش رکھنے والے لوگ اکثر ناکام ہو جاتے ہیں۔ اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں سے جذباتی تعلق کی بنا پر ایسی چیز کے خواہش مند بن جاتے ہیں جو منصوبہ الہی کے مطابق، اُن کو ملنے والی نہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ اس معاملے میں وہ اپنے جذبات کے تحت کوئی فیصلہ نہ کرے، بلکہ وہ ایک حقیقت پسند انسان کی طرح حالات پر غور کرے اور فطرت کے قانون کی روشنی میں اپنے عمل کا نقشہ بنائے ۔ یہی مطلب ہے اس اصول کا کہ— اس دنیا میں کسی آدمی کو وہی ملتا ہے جو اللہ نے اُس کے لیے مقدر کر دیا ہو، نہ اُس سے زیادہ اور نہ اُس سے کم۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2013 All issues

Printed page