Al-Risala · March 2013 · page

شکایت کا سبب

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۳

شکایت کا سبب

سماجی زندگی میں ایک برائی بہت زیادہ عام ہے، اور وہ شکایت ہے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ہر عورت اور ہر مرد کو دوسروں سے شکایت ہو جاتی ہے۔ لوگ دوسروں کی شکایت کا چرچا تو بہت کرتے ہیں، لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی عورت یا مرد خود اپنی غلطی کا چرچا کرے۔ شکایت کبھی یک طرفہ نہیں ہوتی، شکایت کا سبب ہمیشہ دو طرفہ ہوتا ہے، یعنی ایک کا سلوک دوسرے کو پسند نہیں آیا تو وہ اس کے جواب میں اس کے ساتھ برا سلوک کرنے لگا۔ اب سوال یہ ہے کہ جب شکایت کے اسباب دوطرفہ ہیں تو ایسا کیوں ہے کہ لوگ صرف دوسروں کی شکایت بیان کرنے کے ماہر بنے ہوئے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ شکایت عام طور پر، دوطرفہ اسباب سے پیدا ہوتی ہے، لیکن لوگ یہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے حصے کی شکایت کی حسن توجیہہ کر لیتے ہیں، اور دوسرے کے حصے کی شکایت کو وہ بہت زیادہ نمایاں کر کے بیان کرتے ہیں۔ لوگ اگر ایسا کریں کہ دوسرے کی شکایت بیان کرنے سے پہلے خود اپنی غلطی کو بتائیں تو شکایتی نفسیات کا خاتمہ ہو جائے۔ اپنے حصے کی غلطی کو ماننے کا ایک اہم فائدہ ہے۔ ایسا کرنے والے کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ اپنی کمیوں کو درست کرے۔ وہ اپنے اندر ایک اصلاح یافتہ شخصیت کی تعمیر کرے۔ وہ اپنے آپ کو سماج کا ایک بہتر فرد بنائے۔ اپنی غلطی کا اعتراف بہتر سماج کی تعمیر میں مددگار ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، دوسروں کی شکایت کرنا، سماج میں نفرت کا ماحول پیدا کرتا ہے، لوگ دوسروں کے بارے میں غیر ہمدرد ہو جاتے ہیں۔ ایسے ماحول میں کبھی سماجی اتحاد پیدا نہیں ہو سکتا۔

اپنی غلطی کا اعتراف ایک صحت مند اخلاقی ظاہر ہے۔ اس کے برعکس، دوسروں کی شکایت کرنا ایک ایسا سماج بنانا ہے جس میں اعلیٰ اخلاقی اقدار (moral values) کی پرورش رک جائے۔ صحیح ذہن وہ ہے جو محاسبہ خویش (self-introspection) پر مبنی ہو، نہ کہ شکایت غیر پر۔ محاسبہ خویش ہر حال میں مفید ہے، جب کہ شکایت غیر کا کوئی حقیقی فائدہ نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2013 All issues

Printed page