کشتی نوح
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۳
دوسرے دورِ حیات کا مقام آخرت کی دنیا ہوگی۔
قرآن میں بتایا گیا تھا کہ حضرت نوح کی کشتی محفوظ ہے۔ اس کا محفوظ ہونا بے مقصد نہیں ہوسکتا، اس لیے یہ کہنا درست ہوگا کہ کشتی اس لیے محفوظ کی گئی ہے، تاکہ وہ بعد کو قیامت سے پہلے ایک تاریخی نشانی کے طور پر ظاہر ہو۔ اب سوال یہ ہے کہ کشتی نوح کے اس ظہور کی کیا صورت ہوگی۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ غالباً کشتی نوح کے اسی ظہورِ ثانی کا واقعہ ہے جس کو قرآن اور حدیث میں "دابۃ" کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
غالباً کشتی نوح کے ظہور کا یہی واقعہ ہے جس کو قرآن میں دابۃ (82:27) کے ظہور سے تعبیر کیا گیا ہے۔ دابہ دراصل کشتی نوح کا تمثیلی نام ہے۔ دابہ کے لفظی معنی ہیں رینگنے والا۔ کوئی بھی چیز جو رینگنے کی رفتار سے چلے، اس کو دابہ کہا جائے گا۔ کشتی نوح پانی کے اوپر رینگ کر چلی تھی، اس لیے یہ قیاس کرنا درست ہوگا کہ تمثیلی طور پر اس کو دابہ کہہ دیا گیا۔
کشتی نوح
ترکی کی ایک امتیازی خصوصیت ہے جو کسی دوسرے ملک کو حاصل نہیں، وہ یہ کہ ترکی وہ ملک ہے جو دورِ اول کے پیغمبر حضرت نوح کی کشتی کی آخری منزل بنا۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، تقریباً 5 ہزار سال پہلے حضرت نوح کے زمانے میں ایک بڑا طوفان آیا۔ اُس وقت حضرت نوح اپنے ساتھیوں کو لے کر ایک کشتی میں سوار ہو گئے۔ یہ کشتی قدیم عراق (میسوپوٹامیا) سے چلی اور ترکی کی مشرقی سرحد پر واقع کوہ ارارات (Ararat Mountain) کی چوٹی پر ٹھہر گئی۔
اس واقعے کا ذکر بائبل میں اور قرآن میں نیز مختلف تاریخی کتابوں میں بشکلِ کہانی موجود تھا، لیکن کسی کو متعین طور پر معلوم نہ تھا کہ وہ کشتی کہاں ہے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ بعد کے زمانے میں مسلسل برف باری کے دوران یہ کشتی برف کی موٹی تہ (glacier) کے اندر چھپ گئی۔ موجودہ زمانے میں گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں جگہ جگہ گلیشیر پگھلنے لگے۔ چناں چہ ارارات پہاڑ کے گلیشیر بھی پگھل گئے۔ اس کے بعد کشتی قابلِ مشاہدہ بن گئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2013 All issues