حضرت نوح کی کہانی
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۳
کسی کو بھی یہ معلوم نہ تھا کہ حضرت نوح کی کشتی کس مقام پر محفوظ ہے، عرب سے عجم تک ہر ایک کے لیے یہ واقعہ پوری طرح ایک غیر معلوم واقعہ تھا۔
ایسی حالت میں قرآن میں یہ اعلان کیا گیا کہ نوح کی کشتی محفوظ ہے اور وہ مستقبل میں بطور نشانی ظاہر ہونے والی ہے۔ اس اعلان کی حیثیت ایک غیر معمولی پیشین گوئی کی تھی۔ ہزار سال سے زیادہ مدت تک کشتی نوح کے بارے میں بدستور لا علمی کی حالت باقی رہی۔ بیسویں صدی کے آخر میں پہلی بار ہوائی تصویر کشی (arial photograhpy) کے ذریعے معلوم ہوا کہ ترکی کی مشرقی سرحد پر واقع پہاڑ کے اوپر کشتی جیسی ایک چیز موجود ہے۔
کشتی نوح کا یہ ظہور خدا کے ایک عظیم منصوبے کا حصہ ہے، بظاہر وہ انسانی تاریخ کے خاتمے کا ایک ابتدائی اعلان ہے۔ کشتی نوح علامتی طور پر بتا رہی ہے کہ دوبارہ ایک آخری اور زیادہ بڑا طوفان آنے والا ہے۔ اس طوفان کے بعد انسان کا ایک دور حیات ختم ہو جائے گا اور انسانی زندگی کا دوسرا دور شروع ہوگا۔ پہلا دور عارضی تھا اور دوسرا دور ابدی ہوگا۔ پہلے دور حیات کا مقام موجودہ دنیا تھی، جودی پہاڑ (کوہ ارارات) پر موجود کشتی نوح کا ایک فضائی منظر
‹ Previous page Next page › Contents of January 2013 All issues