اصحاب رسول کا رول
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۳
نے لکھا ہے کہ تاریخی طور پر یہ امر سخت مشتبہ ہے کہ مسیح کا کبھی وجود بھی تھا: Historically, it is quite doubtful whether Christ ever existed at all. (Why I Am Not A Christian, 1967, Touchstone, UK, p. 266)
تاریخ میں پیغمبروں کا اندراج نہ ہونے کا سبب کیا تھا۔ اس کا سبب تاریخ نگاری کا قدیم ذوق تھا۔ ابن خلدون (وفات: 1406) سے پہلے، تاریخ کو بادشاہوں کی تاریخ کے ہم معنی سمجھا جاتا تھا۔ قدیم پیغمبروں کے ساتھ چوں کہ حکومت اور سیاست کے واقعات جمع نہیں ہوئے، اس لیے ان کو تاریخی طور پر نا قابلِ ذکر سمجھ لیا گیا۔
اس صورت حال کو ختم کرنے کے لیے اللہ تعالی نے گویا مورخین (historians) کی ایک نئی نسل (generation) تیار کی۔ یہ صحابہ اور تابعین تھے جنھوں نے اس معاملے میں عملاً وہ رول انجام دیا جس کو اس سے پہلے پروفیشنل مورخین انجام دیتے تھے۔ صحابہ اور تابعین نے پیغمبر اسلام اور آپ کی تعلیمات سے متعلق تمام واقعات کا مستند ریکارڈ تیار کیا، پہلے حافظے کی صورت میں اور پھر تحریر کی صورت میں۔ یہی وہ محفوظ ریکارڈ ہے جس کو آج قرآن اور حدیث اور سیرت کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ریکارڈ پہلے صحابہ کے ذریعے تیار ہوا، پھر تابعین اور تبع تابعین کے ذریعے اس کا تسلسل جاری رہا۔ اسی طرح امت کی بعد کی نسلوں نے اس کام کی تدوین میں مزید کارنامے انجام دیے- یہ سلسلہ چلتا رہا، یہاں تک کہ اٹھارھویں صدی عیسوی میں پریس کا دور آگیا۔ اب پیغمبر اسلام اور آپ کے متعلق تمام معلومات کا تاریخی ریکارڈ مطبوعہ کتابوں کی صورت میں محفوظ ہو گیا۔ اس طرح ایسا ہوا کہ پیغمبر اسلام کو استثنائی طور پر ایک مستند تاریخی پیغمبر کا درجہ حاصل ہو گیا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حیثیت کا اعتراف خود سیکولر مورخین نے کھلے طور پر کیا ہے۔ مثال کے طور پر فرانسیسی مستشرق ارنسٹ ریناں (Joseph Ernest Renan) جس کی وفات 1892 میں ہوئی، اس نے 1851 میں ایک مقالہ شائع کیا ۔ اس کا عنوان یہ تھا: Muhammad and the Origins of Islam.
‹ Previous page Next page › Contents of April 2013 All issues