Al-Risala · April 2013 · page

اصحاب رسول کا رول

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۳

اس مقالے میں ارنسٹ ریناں نے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخی حیثیت کا کھلا اعتراف کرتے ہوئے لکھا تھا کہ بڑے مذاہب کے دوسرے بانیوں کے برعکس، پیغمبرِ محمد واحد شخص ہیں جو کہ تاریخ کی کامل روشنی میں پیدا ہوئے:

Unlike the other founders of major religions, the Prophet Muhammad was born in the full light of history. پیغمبرِ اسلام کا مشن پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا خصوصی مشن کیا تھا، اس کو قرآن کی دو آیتوں میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: يُرِيدُونَ لِيُطْفِؤُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ، هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (61:8-9) یعنی وہ چاہتے ہیں کہ وہ اللہ کے نور کو اپنی پھونک سے بجھا دیں، حالاں کہ اللہ اپنے نور کو ضرور مکمل کرے گا، خواہ منکروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ اللہ ہی نے اپنے رسول کو بھیجا ہے ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ، تاکہ وہ اس کو تمام دین پر غالب کر دے، خواہ یہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ قرآن کی ان آیتوں میں دولفظ استعمال کیے گئے ہیں: ہدی اور دین۔ اسی کے ساتھ ان میں دو اور لفظ استعمال کیے گئے ہیں: اتمام اور اظہار۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اتمام کا تعلق ہدی سے ہے اور اظہار کا تعلق دین سے۔ اس میں دراصل اللہ کے دو مطلوب کا ذکر ہے۔ ایک ہے، نور ہدایت کا اتمام، اور دوسرا ہے، دینِ خداوندی کا اظہار و غلبہ۔

نور ہدایت کیا ہے، وہ اصلاً دو چیزوں کے مجموعے کا نام ہے۔ یہ دو چیزیں قرآن اور سنتِ رسول ہیں۔ قرآن، اللہ کے دین کا نظریاتی متن (ideological text) ہے۔ اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب تھا کہ قرآن کا مستند ہدایت نامہ اپنی کامل صورت میں محفوظ ہو جائے، تاکہ قیامت تک کے انسانوں کے لیے وہ خدائی ہدایت کو جاننے کا مستند ذریعہ ہو۔ اس مطلوب الہی کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ (15:9) یعنی قرآن کو ہم نے

‹ Previous page Next page › Contents of April 2013 All issues

Printed page