Al-Risala · April 2013 · page

اصحاب رسول کا رول

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۳

پیغمبر اسلام کا روزمرہ کا سلوک خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، اس نے ایسی حیثیت اختیار کر لی جس کی اب تک لاکھوں لوگ اہتمام کے ساتھ پیروی کر رہے ہیں۔ انسانی نسل کے کسی طبقے کا کوئی آدمی یہ درجہ حاصل نہ کر سکا کہ ایک معیاری انسان کی حیثیت سے اس طرح اس کا کامل اتباع کیا جائے: Serious or trivial, his daily behaviour has instituted a course which millions observe at this day with conscious mimicry. No one regarded by any section of the human race as perfect man has been imitated so minutely. (Arabia, p. 52)

ہدیٰ سے مراد نظریاتی ماڈل ہے۔ خدا کی ہدایت کا یہ نظریاتی ماڈل قرآن اور سنتِ رسول کی شکل میں مستند طور پر محفوظ ہو گیا ہے۔ یہ نظریاتی ماڈل اب ہمیشہ کے لیے پیغمبر کا بدل ہے۔ اظہارِ دین قرآن کی مذکورہ آیتوں میں دو چیزوں کا ذکر ہے — ہدیٰ اور دین۔ دونوں کی حیثیت ایسے مطلوب کی ہے جن کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے ذریعے حاصل کرنا مقدر تھا۔ لیکن آیت کے الفاظ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں کا معاملہ ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ہدیٰ سے مراد ایک نظریاتی مطلوب ہے، اور دین سے مراد ایک عملی مطلوب۔ جب قرآن کا متن محفوظ ہو گیا اور پیغمبر اسلام کا ماڈل حدیث اور سیرت کی کتابوں کے ذریعے مستند طور پر مدوّن ہو گیا تو اس کے بعد وہ مطلوب آخری طور پر حاصل ہو گیا جس کو آیت میں ہدیٰ کے لفظ میں بیان کیا گیا تھا۔ اللہ نے اپنے پیغمبر کے ذریعے سے اپنی ہدایت کا مستند ماخذ تیار کر دیا۔ اب یہ انسان کا کام ہے کہ وہ اس خدائی ماخذ سے اپنے لیے ہدایت حاصل کرتا ہے یا ہدایت حاصل نہیں کرتا۔

اظہارِ دین کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اس معاملے میں اظہار، یعنی غلبہ مطلوب ہے، نہ کہ صرف نظریاتی معیار کا وجود میں آنا۔ اس لیے اظہارِ دین سے ایک ایسا مطلوب مراد لیا جائے گا جو بالفعل وقوع میں آيا۔ بالفعل وقوع میں آنے سے کم درجے کی کوئی چیز اس کی تفسیر نہیں بن سکتی۔ اس آیت میں اظہارِ دین سے حکومتی نظام یا قانونی نظام مراد نہیں لیا جا سکتا۔ اس لیے کہ تاریخی طور پر یہ

‹ Previous page Next page › Contents of April 2013 All issues

Printed page