Al-Risala · April 2013 · page 6

اصحاب رسول کا رول

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۳، صفحہ ۶

اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

قرآن کی حفاظت مکمل طور پر ایک پر امن کام تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب پیدا کیے کہ قرآن کامل طور پر ایک محفوظ کتاب بن جائے، تاکہ وہ قیامت تک پیدا ہونے والے تمام انسانوں کے لیے خدا کی ہدایت کو معلوم کرنے کا مستند ماخذ بن سکے۔ یہ کام مکمل طور پر انجام پا گیا۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ آج پریس کے دور میں قرآن کے چھپے ہوئے نسخے تمام دنیا میں اس طرح موجود ہیں کہ ہر عورت اور مرد جب بھی چاہے، اس کو حاصل کر سکے۔

حفاظت قرآن کے اس واقعے کا اعتراف سیکولر محققین نے بھی کھلے طور پر کیا ہے۔ مثال کے طور پر اسکاٹش مستشرق سرولیم میور (Sir W. Muir) جس کی وفات 1905 میں ہوئی، اس نے قرآن کی بابت لکھا ہے کہ— غالباً دنیا میں کوئی دوسری کتاب ایسی موجود نہیں جو کہ 12 صدیوں تک اپنی کامل حفاظت کو برقرار رکھے :

There is probably, in the world, no book which has (The Life of Muhammad from Original Sources, p. xxiii)

قرآن کے بعد، خدا کے نور ہدایت کا دوسرا جز وہ ہے جس کو قرآن میں پیغمبر خدا کا اسوہ حسنہ (33:21) کہا گیا ہے، یعنی عملی اعتبار سے خدا پرستانہ زندگی گزارنے کا مستند نمونہ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ایک پُر از واقعات زندگی (eventful life) تھی۔ آپ کی زندگی میں ہر طرح کے حالات پیش آئے ۔ آپ نے ہر صورت حال میں خدا پرستانہ زندگی کا عملی نمونہ قائم کیا ۔ آپ کے اس اعلیٰ نمونے کو قرآن میں خلق عظیم (68:4) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام کی زندگی کے یہ نمونے حدیث اور سیرت کی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ موجود ہیں۔ اسلام کا یہ پہلو اتنا زیادہ واضح ہے کہ سیکولر مورخین نے بھی کھلے طور پر اس کا اعتراف کیا ہے۔ اس کی ایک مثال برٹش اسکالر ڈیوڈ جارج ہاگر تھ (David George Hogarth) ہے، جس کی وفات 1927 میں ہوئی ۔ اس نے اپنی ایک کتاب میں پیغمبر اسلام کے بارے میں لکھا ہے کہ —

‹ Previous page Next page › Contents of April 2013 All issues

Printed page