اصحاب رسول کا رول
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۳
لازمی طور پر مطلوب ہے۔ آزادی کے اس نظام کو کوئی بھی شخص یا گروہ اگر منسوخ (abolish) کرے تو اللہ ہرگز اس کو قبول نہیں کرے گا، وہ ایسے افراد یا گروہ کا لازماً خاتمہ کر دے گا۔ بادشاہت کے نظام کا خاتمہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت 610 عیسوی میں ہوئی ۔ اُس وقت یہ حال تھا کہ ساری دنیا میں کچھ انسانوں نے بادشاہت کا نظام قائم کر دیا تھا۔ یہ شاہی نظام عملاً جبریت (despotism) کے ہم معنی تھا۔ اس نظام نے انسانوں سے اُس آزادی کو چھین لیا تھا جو اللہ نے ان کو عطا کی تھی۔ یہ صورت حال کو مطلوب نہیں تھی، کیوں کہ وہ اللہ کے تخلیقی منصوبہ (creation plan of God) کی منسوخی کے ہم معنی تھا۔ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ اس جابرانہ نظام سے ٹکرا کر اس کو ختم کر دیں، تا کہ دنیا میں دوبارہ اللہ کی مطلوب حالت فطری قائم ہو جائے ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو اُس زمانے میں ایک طرف عرب میں ملکی سطح پر قبائلی نظام تھا۔ اس قبائلی نظام نے بھی عملاً انسانی آزادی کو ختم کر رکھا تھا۔ اس صورت حال کا اشارہ قرآن کی مختلف آیتوں میں کیا گیا ہے۔ مثلاً: اَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلَّی (96:9) یعنی کیا تم نے دیکھا اُس شخص کو جو منع کرتا ہے، ایک بندے کو جب کہ وہ نماز پڑھتا ہو۔ پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کا پہلا ٹکراؤ اس قبائلی نظام سے ہوا۔ اس کے نتیجے میں محدود نوعیت کی کچھ جنگیں (limited wars) پیش آئیں۔ آخر کار 6 ہجری میں مکہ فتح ہوا، جو عرب کے قبائلی نظام کا مرکز تھا۔ فتح مکہ کے بعد سارے عرب میں قبائل کا زور ٹوٹ گیا اور آزادی کی حالت قائم ہوگئی۔ فتح مکہ کے بعد اصحاب رسول کو غلبہ حاصل ہو گیا۔ اس غلبہ کا مرکز مدینہ تھا۔ یہ غلبہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے حکومت قائم ہونے کے ہم معنی نہ تھا، بلکہ وہ صرف یہ تھا کہ انتظامیہ (administration) قبائلی سرداروں کے ہاتھ سے نکل کر اصحاب رسول کے ہاتھ میں آ گیا۔
اس اعتبار سے دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ عرب کے باہر اُس وقت دو بڑی شہنشاہتیں (empires) قائم تھیں ۔ ایک، ساسانی ایمپائر (Sassanid empire) اور دوسرے، بازنتینی ایمپائر
‹ Previous page Next page › Contents of April 2013 All issues