Al-Risala · April 2013 · page

اصحاب رسول کا رول

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۳

(Byzantine empire) - ساسانی ایمپائر کا دار السلطنت عراق کا قدیم شہر ساسانیان (Ctesiphon) تھا اور بازنطینی ایمپائر کا دار السلطنت ترکی کا شہر قسطنطنیہ (Constantinople) تھا۔ ساسانی ایمپائر دراصل اُس وقت کے رومن ایمپائر کا مشرقی بازو (eastern wing) تھا۔ یہ دونوں ایمپائر عرب کے قریب واقع تھے اور وہ اُس وقت کی دنیا میں بادشاہت پر مبنی جبری نظام کے نمائندے بنے ہوئے تھے۔ ان دونوں ایمپائر نے اللہ کی دی ہوئی آزادی کو عملاً منسوخ کر رکھا تھا، جو کہ اللہ کو کسی حال میں مطلوب نہ تھا۔ بازنطینی سلطنت کا اقتدار 15 ملکوں پر تھا۔ اس کا خاتمہ 678 عیسوی میں ہوا۔ اور ساسانی سلطنت کا اقتدار 13 ملکوں پر تھا۔ اس کا خاتمہ 651 عیسوی میں ہوا۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان حکم رانوں کو اپنے نمائندوں کے ذریعے خطوط بھیجے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ حکم راں پر امن طور پر اپنے جابرانہ نظام کو ختم کرنے کے لیے تیار ہو جائیں، مگر ایسا نہ ہو سکا۔ ساسانی حکمراں نے آپ کے مکتوب کو اتنا حقیر سمجھا کہ اس نے اس کو پھاڑ کر پھینک دیا۔ اس کے بعد پیغمبر اور اصحابِ پیغمبر کا دونوں سے ٹکراؤ پیش آیا۔ اس ٹکراؤ میں اللہ کی مدد، پیغمبر اور اصحابِ پیغمبر کے ساتھ تھی، چناں چہ وہ پوری طرح کامیاب ہوئے۔

یہ ایک عظیم تاریخی واقعہ تھا، جس نے انسانی تاریخ کے دھارے کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ چناں چہ اللہ نے ایک اسرائیلی پیغمبر حبقوق کے ذریعے اس کی پیشگی خبر دے دی تھی جو موجودہ بائبل میں بدستور موجود ہے۔ اس پیشگی خبر کے الفاظ یہ ہیں ۔ وہ کھڑا ہوا اور زمین تھرا گئی ۔ اس نے نگاہ کی اور قومیں پراگندہ ہو گئیں۔ ازلی پہاڑ پارہ پارہ ہو گئے۔ قدیم ٹیلے جھک گئے۔ اس کی راہیں ازلی ہیں : He stood and measured the earth; He looked and startled the nations. And the everlasting mountains were scattered, the perpetual hills bowed. His ways are everlasting (Habakkuk 3:6)

مذکورہ بیان میں ”وہ“ سے مراد پیغمبرِ اسلام ہیں، اور ”پہاڑیوں“ سے مراد سیاسی پہاڑیاں ہیں، یعنی ساسانی ایمپائر اور بازنطینی ایمپائر ۔ ” اس کی راہیں ازلی ہیں“ سے مراد ہے خدا کے دین کا ابدی طور پر

‹ Previous page Next page › Contents of April 2013 All issues

Printed page