Al-Risala · April 2013 · page

ہدایت اور اظہار دین

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۳

ہدایت اور اظہار دین

قرآن کی سورہ الفتح کی ایک آیت کے الفاظ یہ ہیں: هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ شَهِيدًا ۚ God is One Who has sent His Messenger with guidance and the true religion, so that God may have it prevail over all religions, God suffices as a witness. (48:28)

1- آیت کا اسلوب بتاتا ہے کہ اس آیت میں جس واقعے کا ذکر ہے، وہ کوئی انسانی واقعہ نہیں، بلکہ وہ ایک حتمی فیصلہ ہے، یعنی اللہ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ لازماً ایسا ہو۔ مزید یہ کہ قرآن کی یہ آیت اُس فیصلہ خداوندی کے بارے میں ہے جس کا تعلق خاتم النبیین سے ہے اور چوں کہ خاتم النبیین کی نبوت قیامت تک کے لیے ہے، اس لیے اس فیصلے کا انطباق بھی لازماً قیامت تک جاری رہے گا۔ اس آیت میں پیغمبر یا امت مسلمہ کے مشن کو نہیں بتایا گیا ہے، بلکہ اس میں اللہ کے ایک فیصلے کو بتایا گیا ہے، جو پوری انسانی تاریخ میں لازماً ایک واقعہ بنے گا۔

2- دوسری چیز ہدایت ہے۔ ہدایت سے مراد اللہ کی طرف سے بھیجی ہوئی الہامی ہدایت ہے۔ اس الہامی ہدایت کے بارے میں اللہ کا یہ فیصلہ تھا کہ وہ ہر اعتبار سے محفوظ رہے، اس کا عربی متن، اس کی زبان، اس کا لہجہ، حتی کہ اس کا طرز کتابت، وغیرہ۔ قرآن ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں اترا۔ اب تک کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ کتاب (قرآن) ہر اعتبار سے محفوظ ہے۔ پرنٹنگ پریس اور ریکارڈنگ کا دور بتاتا ہے کہ اب قرآن کی یہ حفاظت مزید اضافے کے ساتھ یقینی بن چکی ہے۔ 3- اظہار دین سے مراد خود دین کا اظہار ہے، نہ کہ دین کے سوا کسی اور چیز کا اظہار۔ اس آیت میں اظہار دین سے مراد سیاسی اقتدار یا اجتماعی نظام نہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کا دین بحیثیت دین حق اپنے نظریاتی غلبہ کو ہمیشہ برقرار رکھے گا۔ یہ غلبہ بہ اعتبار حجت (دلیل) ہوگا، نہ کہ بہ اعتبار نظام۔ دین حق کے نظریاتی غلبہ کو ہمیشہ برقرار رکھنا تاریخ کا مشکل ترین منصوبہ ہے، کیوں کہ

‹ Previous page Next page › Contents of April 2013 All issues

Printed page