Al-Risala · April 2013 · page

اسلامی تحریک اکیسویں صدی میں

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۳

عدل سے مراد ہے، ایک انسان کا انفرادی سلوک۔ قرآن کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے انسان کو معرفت کے لیے پیدا کیا ہے (51:56)۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے عقل دی۔ اب انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ عقل کو استعمال کر کے اپنے خالق کو دریافت کرے۔ یہی دریافت، خدا پرستانہ زندگی کا آغاز ہے۔ اس دریافت کا تعلق انسان کی پوری زندگی سے ہے۔ جب کسی شخص کو حقیقی معنوں میں یہ دریافت ہوتی ہے تو اس کے بعد فطری طور پر اس کی پوری زندگی میں ایک انقلاب برپا ہو جاتا ہے۔ اس کی پوری شخصیت ایک نئی شخصیت بن جاتی ہے، وہ پورے معنوں میں ایک ربانی انسان بن جاتا ہے۔ اسی قسم کا ربانی انسان تخلیق کا اصل مقصود ہے۔ اسی قسم کے ربانی افراد، نہ کہ ربانی معاشرہ، خدا کے تخلیقی منصوبے کا اصل مقصود ہیں۔ موجودہ دنیا میں ایسے افراد پوری انسانی تاریخ سے منتخب کیے جائیں گے اور پھر ان منتخب افراد کی بنیاد پر آخرت کی دنیا میں ایک اعلیٰ ربانی معاشرہ وجود میں آئے گا۔ یہی وہ افراد ہیں جو خدا کی ابدی جنتوں میں جگہ پائیں گے۔

خالق نے اس دنیا میں انسان کو کامل آزادی دی ہے۔ یہ آزادی برائے امتحان ہے، نہ کہ برائے استحقاق۔ انسان کو یہ آزادی بھی حاصل ہے کہ وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال کرے۔ یہ آزادی قیامت سے پہلے منسوخ ہونے والی نہیں۔ اس آزادی کی بنا پر ایسا ہے کہ اس دنیا میں اعلیٰ افراد تو بنتے ہیں، لیکن اعلیٰ معاشرہ یا اعلیٰ نوعیت کا اجتماعی نظام کبھی نہیں بنتا۔ انسانی زندگی کی یہ نوعیت قیامت تک بدستور باقی رہے گی۔ قیامت کے بعد ایک نئی دنیا بنے گی۔ وہاں پوری تاریخ کے منتخب افراد بسائے جائیں گے اور جو لوگ اپنی آزادی کا صحیح استعمال نہ کر سکے، اُن کو جمع کر کے کائناتیکوڑے خانے میں ڈال دیا جائے گا خدا کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، انسانی زندگی کی حقیقت یہی ہے۔ انسانی زندگی کی بامعنی تعبیر صرف اُس وقت ممکن ہے جب کہ اس خدائی منصوبے کو ذہن میں رکھ کر اس کی تعبیر کی جائے، انسانی تاریخ کو با معنی تعبیر دینے کا دوسرا کوئی طریقہ نہیں۔ (25 اکتوبر 2012)

‹ Previous page Next page › Contents of April 2013 All issues

Printed page