Al-Risala · April 2013 · page

ہدایت اور اظہار دین

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۳

قدیم تاریخ میں دین حق کا دوسرا غلط متبادل (false alternative) شخصیت پرستی (personality cult) کی صورت میں پیدا ہوا۔ شخصیت پرستی کا سیاسی اظہار بادشاہت کے ادارہ کی صورت میں ہوا۔ بادشاہ کے متعلق مان لیا گیا کہ وہ دوسرے انسانوں کے مقابلے میں، پُر اسرار فوقیت رکھتا ہے۔ اس طرح بادشاہ کو عملاً وہ درجہ دے دیا گیا جو معبود کا درجہ ہونا چاہیے۔ یہ بادشاہت یا سیاسی شخصیت پرستی انسانی تاریخ میں کئی ہزار سال تک جاری رہی۔ بادشاہت کے دور میں انسانی سوچ کا مرکز و محور بادشاہ بن گیا۔ اعلیٰ انسانی جذبات بادشاہ کے ساتھ وابستہ کردئے گئے۔ عام طور پر یہ مان لیا گیا کہ ۔ جو بادشاہ کا مذہب، وہی سب کا مذہب (الناس علی دین ملوکهم)

بادشاہت کے پورے زمانے میں ساری دنیا میں زراعت کا دور قائم تھا۔ اُس زمانے میں زراعت (agriculture) اقتصادیات کا واحد ذریعہ تھی۔ اُس زمانے میں زمین کا مالک ہونے کی بنا پر بادشاہ اقتصادیات کا واحد مالک بنا ہوا تھا۔ اُس زمانے میں بادشاہ کو یہ حیثیت تھی کہ بادشاہ دینے والا ہے اور بادشاہ چھیننے والا۔ اُس زمانے میں بادشاہ کو عملاً وہ درجہ ملا ہوا تھا، جو درجہ خدا کا ہونا چاہیے۔ ان حالات میں یہ تصور پیدا ہوا کہ بادشاہ حاکم (ruler) ہے اور دوسرے تمام لوگ محکوم (ruled) کی حیثیت رکھتے تھے۔ قدیم زمانے کی اس نفسیات کو ایک فارسی شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا: شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدا را اس طرح بادشاہ گویا خدا کا ایک سیاسی متبادل (political alternative) بن گیا تھا۔ گویا دین باطل نے دین حق کی جگہ لے رکھی تھی۔ اللہ تعالیٰ کو یہ صورت حال مطلوب نہ تھی، چناں چہ تاریخ میں ایک نیا عمل (process) جاری ہوا۔ یہ عمل ساتویں صدی عیسوی میں شروع ہوا، جب کہ عرب میں قبائلی سرداری کا نظام رائج تھا اور عرب کے اطراف میں دو بڑے ایمپائر قائم تھے— ساسانی ایمپائر اور بازنطینی ایمپائر۔ بائبل کے الفاظ میں، یہ گویا سیاسی چٹانیں تھیں۔ رسول اور اصحاب رسول کے ذریعے ان سیاسی چٹانوں کو توڑ کر تاریخ میں ایک نیا سیاسی عمل جاری ہوا۔ یہ عمل سفر کرتے ہوئے آخر کار یورپ پہنچا۔ اس سیاسی عمل کا نقطہ انتہا 1789 میں پیش آنے والا فرانسیسی انقلاب تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2013 All issues

Printed page