Al-Risala · April 2013 · page

ہدایت اور اظہار دین

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۳

اس انقلاب کے بعد دنیا میں ایک نیا دور آیا جس کو جمہوریت کہا جاتا ہے۔ جمہوریت نے شخصی بادشاہت کے تصور کا خاتمہ کر دیا اور دنیا میں عوامی حکومت کا دور آیا، جس کا فارمولا یہ تھا: Government of the people, by the people, for the people. اس جمہوری انقلاب نے قدیم طرز کی شخصی بادشاہت (monarchy) کا خاتمہ کر دیا، پہلے یورپ میں اور اس کے بعد ساری دنیا میں۔ اس طرح دنیا میں بادشاہی مذہب کا خاتمہ ہو گیا اور نظری طور پر دین حق دوبارہ دنیا میں قائم ہو گیا۔ دین حق کا یہ قیام سیاسی اقتدار یا حکومتی نظام کے معنی میں نہ تھا، بلکہ وہ حجت کی سطح پر دین حق کا فکری اظہار تھا۔ یہ واقعہ اتفاقاً پیش نہیں آیا، بلکہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ تاریخ میں ایک عظیم خدائی آپریشن کا نتیجہ تھا۔ جمہوریت صرف ایک سیاسی نظریہ نہ تھا، اس کا ایک اور اہم تر پہلو یہ تھا کہ اس نے اُس سیاسی الوہیت (political divinity) کے تصور کا خاتمہ کر دیا جس کو بنیاد بنا کر قدیم زمانے کے بادشاہ اپنی عظمت قائم کیے ہوئے تھے۔ جمہوری انقلاب کے بعد سیاسی اقتدار صرف ایک انتظامیہ (administration) بن کر رہ گیا، ایک مقدس ادارے کی حیثیت سے اس کا خاتمہ ہو گیا۔ اس سلسلے کی تیسری مثال وہ ہے جس کو ہیومن ازم (Humanism) کہا جاتا ہے۔ ہیومن ازم ایک جدید فلسفہ ہے جس کو دوسرے الفاظ میں، انسان پرستی کہا جا سکتا ہے۔ یہ دین حق کا آخری غلط متبادل ہے جو بیسویں صدی کے نصف آخر میں زیادہ طاقت کے ساتھ پیدا ہوا۔ یہی معاملہ وجودیت (Existentialism) کا ہے، جس کا بانی فرانسیسی فلسفی سارترے (Jean Paul Sartre) ہے جس کی وفات 1946 میں ہوئی۔ وجودیت بھی دراصل ہیومن ازم کا فلسفیانہ ایڈیشن ہے۔ ہیومن ازم کیا ہے، ہیومن ازم ایک غیر خدا پرستانہ فلسفہ ہے۔ ہیومن ازم ایک فکری نظام ہے جس کا مقصد ساری اہمیت انسان کو دینا ہے، نہ کہ خدا یا کسی فوق الفطری طاقت کو: Humanism: An outlook or system of thought attaching prime importance to human, rather than divine or supernatural matters. دور جدید کے بہت سے فلسفی ہیومن ازم کے نقطہ نظر کے حامی بن گئے۔ مثلاً جرمن فلسفی

‹ Previous page Next page › Contents of April 2013 All issues

Printed page